کد خبر ۸۷۵۱ انتشار : ۱۱ مهر ۱۳۹۸ ساعت ۱۷:۰۳
جواد ظریف

ایران ، یورپ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کئے جانے کی بنا پر ہرجانہ لے سکتا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ تہران نے ایٹمی سمجھوتے کی مکمل پابندی کی ہے اور یورپ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کئے جانے کی بنا پر اس سے ہرجانہ لے سکتا ہے

ایران کے وزیر خارجہ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یورپ کے اس دعوے کے بارے میں کہ اگر ایران نے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو یورپ ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکل جائے گا کہا کہ ایٹمی سمجھوتے سے یورپ کے باہر نکلنے کا موضوع زیر بحث نہیں ہے بلکہ موضوع گفتگو اختلافات کا حل ہونا ہے۔

ایران کے وزیرخارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ اگر یورپ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرے گا تو ایران ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی لانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ جواد ظریف نے فرانس کے صدر کے چار شقوں پر مشتمل منصوبے کے بارے میں کہا کہ فرانس کے صدر امانوئل میکرون کا چار شقوں پر مشتمل منصوبہ صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا ہے۔

ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش میں نہیں ہے کہا کہ ایران ، ہمیشہ خلیج فارس اور جہاز رانی کی سیکورٹی کے لئے کوشاں رہا ہے تاہم دوسرے اس میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں۔

جواد ظریف نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہری جھنڈی دکھائی ہے کہا کہ اگر سعودی حکومت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ہتھیار خرید کر اور اپنی حاکمیت و اقتدار اعلی دوسروں کے سپرد کر کے تحفظ نہیں حاصل کیا جا سکتا اور علاقے کی جانب قدم بڑھائے تو یقینا ایران کی آغوش اس کے لئے کھلی ہوئی ہوگی۔

اخرین اخبار