کد خبر ۸۶۸۳ انتشار : ۲۶ شهریور ۱۳۹۸ ساعت ۲۱:۴۲
پاکستانی کا سرقلم

سعودی عرب میں ایک پاکستانی کا سرقلم، جے پی پی کی جانب سے مذمت

پاکستانی وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان جے پی پی نے سعودی عرب کی جیل میں فرد جرم عائد کئے بغیر ایک پاکستانی نوجوان کا سرقلم کردئے جانے کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی عرب میں فرد جرم عائدکئے بغیر پاکستانی شہریوں کے سرقلم کئے جانے کے واقعات میں اضافے کے دوران ایک اور پاکستانی نوجوان محمد عمران کا بھی گذشتہ سنیچر کو جیل میں سر قلم کردیا گیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والے محنت کش محمد عمران اگست دوہزار گیارہ میں روزگار کی تلاش میں سعودی عرب پہنچے تھے جہاں انہیں جدہ ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لیا گیا ۔ اس پاکستانی محنت کش پر منشیات کی اسمگلنگ کا مقدمہ چلایا گیا اور اسے کسی طرح کی قانونی نمائندگی دئے بغیر سزائے موت سنا دی گئی تھی - خبروں میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ پاکستانی نوجوان کا ٹرائل عربی زبان میں کیا گیا تھا جسے وہ سمجھ نہیں سکتے تھے اور نہ ہی انہیں مترجم فراہم کیا گیا تھا -

جے پی پی کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں تین ہزار چار سوپاکستانی شہری قید ہیں جن میں ایک خاتون سمیت چھبیس کو سزائے موت دی جاچکی ہے - جےپی پی کا کہنا ہے کہ جن پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دی گئی ہے ان کے گھروالوں کو اس کی اطلاع تک بھی نہیں دی جاتی کہ وہ آخری وقت میں ہی اپنے عزیز سے ملاقات کرلیں اور نہ ہی ان کی لاشوں کو ورثہ کے حوالے کیا جاتا ہے -

جے پی پی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے یہ سارے اقداماات تمام تر اسلامی اخلاقیات اور قانون کے خلاف ہیں - جے پی پی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سارہ بلال کہنا ہے کہ سعودی عرب انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور وہ پاکستانی قیدیوں کو ابتدائی ترین انسانی حقوق بھی فراہم نہیں کرتا ہے۔

 

اخرین اخبار