کد خبر ۷۴۵ انتشار : ۲۴ شهریور ۱۳۹۵ ساعت ۲۲:۲۴
قربانی

ایسی قربانی پر قربان جایئے

کھال اتروانا ایک رتبہ ہے، پاکستان میں یہ رتبہ پانے کیلئے کسی کا بکرا ہونا ضروری نہیں، موٹروے پولیس میں بھرتی ہوکر بھی یہ اعزاز حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مگر ضروری ہے کہ آپ وطن کے سجیلے جوانوں کے چالان کاٹنے کی ہمت جوتیں، ایسا کرنے کی صورت میں کسی قصائی تو دور سرکاری ٹیچر کی بھی ضرورت نہیں پڑیگی، سجیلے جوان اپنے آپ ہی آپکی کھال اتار کر آپ ہی کی ہتھیلی پہ سجادیں گے۔ عید قربان کے عظیم اسلامی تہوار پر ضلعی حکومتیں اپنی نگرانی میں باقاعدہ ٹینڈر کے ذریعے بکرا منڈیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ جس میں بکرے کھچے چ

قربانی کا بکرا ہر کسی کے نصیب میں کہاں، بکرے سے محروم صرف وہ ہی نہیں کہ جن کی جیب اجازت نہیں دیتی، کہیں کہیں ایسے بدنصیب بھی ہیں کہ جنہیں بکرے کی اجازت خانم نہیں دیتی اور قربانی کی اجازت چور نہیں دیتے۔ عیدالاضحٰی سال میں ایک مرتبہ آتی ہے، مگر کئی کی جان پر بن آتی ہے، جو سینگوں سے ڈرتے ہیں، ان کی بکرے سے، جناب شیخ کی خرچے سے اور بیچارے بکرے کی چھری سے جان جاتی ہے۔ سال بھر میں شائد کہ یہ اکلوتا موقع ہوتا ہے جب جا بجا چھریاں، چاقو، کلہاڑیاں رکھنے، گھمانے، چلانے، چرانے کی ازروئے قانون کھلی چھٹی ہوتی ہے، چاہے دفعہ ایک سو چوالیس ہی نافذ کیوں نہ ہو، جبکہ کھال اتارنے کے پیسے بھی الگ سے ملتے ہیں۔ ہمارے حکمران چونکہ کھال اتارنے میں ماہر ہیں، لہذا یہ بہت، بہت زیادہ امیر ہیں۔ کھال اتارنے سے حاصل کمائی کا اندازہ لگانے کیلئے محض اتنا ہی کافی ہے کہ وزیراعظم ہو یا وزیر خزانہ ان کے پاس اور ان کے بچوں کے پاس پیسے رکھنے کیلئے بھی پاکستان میں جگہ نہیں ہے، اسی لئے دنیا بھر میں چھپاتے پھر رہے ہیں۔

پاک عوام شکر بجا لائیں کہ مہنگائی کے ذریعے ان کے ہاتھ سے صرف نوالہ چھینا جا رہا ہے، قربانی کے بکرے کی طرح ان کی کھال سے جوتے نہیں بنائے جا رہے، علیل جبران کے مطابق میاں صاحب مزید برسراقتدار رہے تو عوامی کھال سے بنے جوتے ہر منسٹر ضرور زیب پا کریگا۔ عیدالاضحٰی کے موقع پر کھال اتارنے میں جو جتنا بڑا ماہر ہوتا ہے، اس کی مانگ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے، کھال اتارنے میں زیادہ نخرے قصائی کرتا ہے، حالانکہ قصائی سے بہتر انداز میں کھال سرکاری سکول کے ٹیچرز اتارتے ہیں، مگر ان کی خدمات کوئی حاصل ہی نہیں کرتا۔ بکرا عید کے مبارک موقع پر کھال اتروانا ایک رتبہ ہے، تاہم پاکستان میں یہ رتبہ پانے کیلئے کسی کا بکرا ہونا ضروری نہیں، موٹروے پولیس میں بھرتی ہوکر بھی یہ اعزاز حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مگر ضروری ہے کہ آپ وطن کے سجیلے جوانوں کے چالان کاٹنے کی ہمت جوتیں، ایسا کرنے کی صورت میں کسی قصائی تو دور سرکاری ٹیچر کی بھی ضرورت نہیں پڑیگی، سجیلے جوان اپنے آپ ہی آپکی کھال اتار کر آپ ہی کی ہتھیلی پہ سجا دیں گے۔

عید قربان کے عظیم اسلامی تہوار پر ضلعی حکومتیں اپنی نگرانی میں باقاعدہ ٹینڈر کے ذریعے بکرا منڈیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ جس میں بکرے کھچے چلے آتے ہیں، کچھ بکروں کے گلے میں رسی ہوتی ہے اور کچھ کے گلے میں ٹائی۔ جن کے گلے میں رسی ہوتی ہے، ان کے کان لٹکے ہوئے اور جن کے گلے میں ٹائی ہوتی ہے، ان کے کان کھڑے ہوئے ہیں۔ قربانی کیلئے کون سا بہتر، اس کا فیصلہ آپ پہ۔ نجی بینک میں صبح سویرے ہی اسسٹنٹ منیجر اور ہیڈ کیشیئر نے پروگرام بنایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی لنچ بریک کے دوران قریب واقع بکرا منڈی کا چکر لگاکر ایک ایک بکرا لیں گے، دونوں نے فیصلہ کیا کہ پچیس ہزار سے زائد کا بکرا نہیں لینا۔ لنچ بریک کے دوران پروگرام کے مطابق دونوں نکلے اور بکرا منڈی جا پہنچے، مگر منڈی میں بکروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ اچھے بکرے کی قیمت پچاس، جبکہ بہتر کی چالیس اور چھوٹے بکروں کی قیمتیں تیس ہزار کے لگ بھگ تھیں۔ گھومتے گھومتے دونوں کی نظر ایک شخص پر پڑی، جس نے دو بکرے تھامے ہوئے تھے۔ قیمت پوچھی تو اس نے دونوں بکروں کی قیمت چالیس ہزار بتائی۔

بینک ملازمین نے خوب تسلی سے دونوں بکروں کو چیک کیا اور بھاؤ تاؤ کرنے کی کوشش کی، حالانکہ من ہی من میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ سستے بکرے جو مل رہے تھے۔ بھاؤ تاؤ کے دوران ہی بکرے والے نے اچانک بکرے بیچنے سے انکار کر دیا۔ دونوں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میرا کاروبار بکروں کی خرید و فروخت نہیں، بلکہ گدھا گاڑی پر محنت مزدوری ہے۔ میرا گدھا مر گیا تو یہ بکرے بیچ کر گدھا خریدنے آیا ہوں۔ مجھے گدھا ملا نہیں، اس لئے بکرے نہیں بیچتا، بکرے اس صورت میں اسی قیمت پر بیچوں گا، جس قیمت پر گدھا ملے۔ دونوں نے آپس میں صلاح کی اور بکرے والے سے طے کیا کہ گدھا ہم تمہیں لیکر دیتے ہیں، لہذا تم نے بکرے کسی اور کو نہیں بیچنے۔ دونوں کچھ دور درخت کے نیچے ٹھہرے گدھے والے کے پاس آئے اور اس سے گدھے کی قیمت پوچھی تو گدھے والے نے پہلے سر سے پیر تک دونوں کا بغور جائزہ لیا اور بڑی بے اعتنائی کیساتھ گدھے کی قیمت پینتیس ہزار بتائی۔ دونوں بینک ملازمیں کی باچھیں کانوں تک پہنچ گئیں، دونوں جلدی سے پینتیس ہزار کا گدھا لیکر بکرے والے کی جانب مڑے تو بکرے والا ندارد، گدھے والے کے پاس پہنچے تو وہ بھی غائب۔ سوٹ بوٹ پہنے ٹائی لگائے دونوں ملازمین ہاتھ میں گدھے کی رسی تھامے رحم طلب نگاہوں سے اس مجمع کو دیکھتے رہ گئے جو ان کے چاروں جانب دائرے کی صورت میں کھڑے ان ٹائی والے بکروں کو دیکھ رہا تھا، جن کے ہاتھ میں گدھے کی رسی تھی۔

چلیں پینتیس ہزار کی یہ قربانی بکرا منڈی میں تو ہوئی، اس سیمے بیچارے کا کیا قصور جس نے کل سرشام ہی سال بھر کے پالے ہوئے دونوں چھتروں (مینڈھے) کو خوب شیمپو سے نہلایا، معمول سے بڑھ کر ان کی خاطر مدارت کی، رات گئے ایک ایک سیون اپ پلا کر گھر کے اندر انہیں اپنی مخصوص جگہ پر باندھا اور پرسکون نیند سو گیا۔ فجر کے وقت آنکھ کھلی تو جانوروں کے پاؤں میں بندھے گھنگرو، گلے میں لگا پٹہ، کھونٹے سے بندھی رسی اور ماشاءاللہ عید مبارک والے گتے کے کلر فل بورڈ تو پڑے تھے مگر دونوں چھترے غائب تھے۔ چند ساعتوں میں جیسے گھر میں کہرام برپا ہوگیا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ پولیس کو اطلاع کرو مگر گھر کے سامنے رہنے والے جہاندیدہ پروفیسر نے کہا کہ اگر ایک جانور چوری ہوا ہوتا، تو ضرور رپورٹ درج کراتے، مگر چوری دو جانور ہوئے ہیں۔ اب دو جانوروں میں سے کم از کم ایک تو ایس ایچ او کا ہوگا، لہذا رپورٹ سے کوئی فائدہ نہیں، واقعی رپورٹ سے کچھ حاصل نہیں ہوا کیونکہ جانور تو ملے نہیں، البتہ قانونی کارروائی پر مزید چند ہزار اٹھ گئے۔ اہل محلہ سیمے کو دلاسے دیتے رہے تم دل چھوٹا نہ کرو، تمہاری قربانی اللہ نے قبول کرلی اور سیما بھی جی جی کرتا رہا۔

قربانی کا ذکر اور تاکید علماء کرام، خطباء، مشائخ عظام بڑی جانفشانی سے کرتے ہیں، قربانی کا درس یعنی دوسروں کی خوشی و خوشنودی کیلئے اپنی خواہشات کی نفی کرنا بتاتے ہیں، مگر جمعہ و عیدین کے خطبے، جماعت کی امامت اور کھالوں کی وصولی کی قربانی دینے پر کوئی عالی مرتبت رضامند نہیں۔ عید نماز کے اوقات کی فہرست جب بھی جاری ہوتی ہے، کوٹلی امام حسین (ع) ڈی آئی خان میں دو نمازوں کے اوقات نمایاں تحریر کئے جاتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ اتحاد بین مسلمین کے مدرس اتحاد بین المومنین پر کب زور دیں گے۔ ہزار شکر کہ حضرت اسماعیل (ع) کی جگہ دنبہ قربان ہوا، وگرنہ سنت ابراہیمی پہ کون کتنا عمل کرتا، خبر نہیں۔ علیل جبران کے نزدیک عید کی رونقیں بحال اسی لئے ہیں کہ قربانی کے نام پر جان دوسروں کی لی جاتی ہے، جبھی تو کوئی ساٹھ ذبح کرے تو کوئی دو، بیشتر کم وسائل کی بناء پر قربانی کی خواہش کو ہی قربان کرکے قربانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض افراد و اداروں میں وہ جان و مال قربان کرنے کا جذبہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، جو دوسروں کا ہوتا ہے، ان کا اپنا نہیں۔ جیسے ایم کیو ایم نے اس عید قربان پر دوسروں سے زبردستی کھالیں اکٹھی نہ کرکے بڑی قربانی دی۔

یاد آیا کہ محض اپنی ’’میں‘‘ کی تسکین کیلئے کوٹلی امام حسین (ع) کی اڑھائی سو کنال سے زائد زمین قربان کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ایک فریق پر فنڈ قربان کر رہی ہے تو دوسرے فریق پر اپنے قیمتی وقت کی قربانی دے رہی ہے۔ اسی کوٹلی امام حسین (ع) میں جنازہ گاہ نامی ایک عدد سرسبز و شاداب زیرتعمیر پلاٹ موجود ہے۔ جس میں ایک فریق ’’یادگار شہداء‘‘ کے نام سے کمرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا فریق مصر ہے کہ مرجائیں گے، کٹ جائینگے، یہ نہیں ہونے دینگے۔ پہلے فریق سے پوچھے کوئی یادگار شہداء کی تعمیر مرکزی شاہراہ سے دور جنازہ گاہ میں کمرے کی صورت میں چہ معنی،؟ کیا کوٹلی کی زمین سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ پر یادگار شہداء کی تعمیر میں صوبائی حکومت آڑے ہے یا کوئی اور۔ بجائے اس کے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی زمین کو محفوظ بنانے کیلئے اس پر قومی تعمیرات کو پھیلایا جائے، الٹا اسی زمین پر کمرے کی تعمیر کی ضد کہ جہاں پہلے ہی جنازہ گاہ کے نام پر چار دیواری قائم ہے۔

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ چہلم سید شاہد شیرازی کے موقع پر کوٹلی امام حسین (ع) کی خالی زمین پر قائد کے دست مبارک سے حسینیہ پرائمری سکول کے اگلے فیز حسینیہ ہائر سکینڈری سکول کا سنگ بنیاد رکھا جاتا اور عین کوٹلی امام کے سامنے خالی کمرشل پلاٹ پر یادگار شہداء و ڈسپنسری و بلڈ بینک کا سنگ بنیاد رکھا جاتا، مگر ڈیرہ کے اہل تشیع کے اتنے روشن نصیب کہاں۔ ان کے تو نصیب میں ۔۔۔۔ سرسبز و شاداب پلاٹ میں یادگار شہداء کی تعمیر کے مخالف فریق سے بھی پوچھے کوئی کہ جس پلاٹ کو جنازہ گاہ کے نام پر تالے لگائے گئے ہیں، اسی پلاٹ کے قریب تعمیر ہونے والے ٹیکنیکل کالج کا ایک دروازہ جنازہ گاہ کے پلاٹ میں کیوں موجود ہے۔؟ کیا مستقبل قریب میں یہی پلاٹ اساتذہ و طلباء کیلئے بریک ٹائم میں کھیل کا میدان تو بننے نہیں جا رہا۔ صوبائی حکومت دونوں فریقین کے مابین اختلاف کو بڑھاوا دیکر کوٹلی امام حسین (ع) کے اردگرد چاردیواری دینے کیلئے کوشاں ہے، تاہم یہ چاردیواری تین سو سترہ کنال کے بجائے نصف سے بھی کم اسی زمین پر دینے جا رہی ہے، جو کہ اہل تشیع کے تصرف میں ہے اور صوبائی حکومت کے اس اقدام کی دونوں فریق تائید کرکے قربانی دینے پر رضامند ہیں، البتہ یہ قربانی کوٹلی امام کی زمین کی محسوس ہوتی ہے۔

عید کا پہلا دن اور شہید کی فیملی
بیٹی دہلیز فاطمہ: امی، قربانی کے بکرے جنت میں لیکر جاتے ہیں۔؟
والدہ: جی بچے
فاطمہ: اسی لئے ابو بقر عید پر بکرا ضرور لاتے تھے
والدہ: ہاں میرا بچہ
فاطمہ: ابو کی قربانی قبول ہوئی تھی، اسی لئے ابو جلدی جنت میں چلے گئے
والدہ: قدرے توقف سے۔۔۔ ہاں میر ی بچی
فاطمہ: امی، اگر ہم بکرا لیں گے اور ہماری قربانی قبول ہوگی تو ہم بھی جنت میں جائیں گے، ابو کے پاس۔۔۔۔۔
والدہ: چپ ہو جا فاطمہ، جلدی سے جا اور اپنا سکول بیگ لیکر آ، ہوم ورک باقی ہوگا تیرا۔ معلوم نہیں کیوں یہ جملے ادا کرتے ہوئے والدہ کی آنکھوں میں صرف آنسو تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار