کد خبر ۷۴۲ انتشار : ۲۳ شهریور ۱۳۹۵ ساعت ۲۳:۱۲
آل سعود کی حکمرانی

دنیا کو آل سعود کی حکمرانی کے خاتمے کا انتظار

سعودی عرب کے جوانوں کی بے روزگاری اور خراب معاشی اور اقتصادی صورت حال کو آل سعود کے سقوط اور خاتمے کا ایک ممکنہ سبب ہے.

گزشتہ سالوں سے سعودی عرب خطے اور دنیا میں خودساختہ مشکلات اور دلدل میں پهنس چکا ہے اور اس حوالے سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے قریب مستقبل میں آل سعود کی عرصہ دراز کی حکمرانی کا خاتمہ ہوجائے گا.
یمن، شام، عراق، لبنان، ایران کے واقعات اور 11 ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات اور دہشت گرد اور القاعدہ گروپوں کی حمایت اور منی المناک واقعے میں آل سعود کے کردار کو منظر عام پر لایا جائے.
11 ستمبر سے لیکر اب تک رونما ہونے والے تمام دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب کے شہری براہ راست ملوث رہے ہیں، دہشت گردوں کو آل سعود اور سعودی شہزادوں کی مکمل حمایت اور پشتپناہی حاصل ہے.
سعودی عرب نے منی میں ایرانی اور غیر ایرانی حجاج کا قتل عام کیا.حج کے مناسک میں سعودی حکومت کی بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ایک ہی دن میں سات ہزار افراد شہید ہوگئے کہ ان میں سے شہید ہونے والے ایرانی حجاج کی تعداد 464 حاجی بهی شامل تهے.
عربستان کے ایک اور مسئلہ اپنے ہمسایہ ممالک جیسے کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، یمن، عراق کے ساته سرحدی اور سیاسی تنازعات ہے.
جنگ یمن نے سعودی عرب کے لیے بهاری اخراجات کو پیدا کرتے ہوئے اور اقتصادی ماہرین پیشن گوئی کی بنیاد پر اس ملک نزدیک آئندے میں دیوالیہ ہو جائے گا.
واضح رہے کہ آل سعود کی حکومت میں حکومتی نظام موروثی ہے اور اس ملک کے عوام کا حکومتی امور کو چلانے اور قانون سازی میں شرکت کے سلسلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
سعودی عرب کے جوانوں کی بے روزگاری اور خراب معاشی اور اقتصادی صورت حال کو آل سعود کے سقوط اور خاتمے کا ایک ممکنہ سبب ہے.
سعودی عرب نے ایران کے خلاف آٹه سالہ جنگ میں صدام کی بهر پورمالی اور سیاسی حمایت کی.
علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے فروغ اور دہشت گردوں کی پشتپناہی میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے.
خطے میں ایران کی فعال کردارکی واپسی کی وجہ سے سعودی تیل کے ڈالر کی سنہری دور ختم ہو چکا ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار