کد خبر ۷۳۳ انتشار : ۲۳ شهریور ۱۳۹۵ ساعت ۲۱:۴۸
رہبر معظم انقلاب اسلامی:

عوام مردم شماری میں بھرپور حصہ لیں/ استقامتی معیشت ہی ملکی مشکلات کے حل کا حقیقی راستہ ہے

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دقیق، سنٹرالائزڈ اور سائنٹفک اعداد وشمار کو ، اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے مفید فیصلے کرنے کی اہم ترین بنیاد قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے منگل کے روز مردم اور خانہ شماری کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے سربراہ ، کارکنوں اور محکمہ شماریات کے اعلی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے، مردم شماری کی اہمیت پر زور دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور طریقے سےمردم شماری میں حصہ لیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ صحیح، بروقت اور کارآمد فیصلوں کے لیے ایران کے عوام کو مردم شماری میں بھرپور شرکت کے ساتھ ساتھ مردم شماری کرنے والوں کو لازمی معلومات اور صحیح اعداد و شمار سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے محکمہ شماریات کے عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ، اعداد و شمار کی تدوین میں موجودہ صورتحال کو بھی واضح کیا جائے اور تبدیلیوں کے عمل کی بھی نشاندھی کی جائےتاکہ موجودہ دور میں جب تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، اعلی حکام اور فیصلہ کرنے والے حضرات تبدیلیوں کے اثرات سے غافل نہ رہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اعداد وشمار اورعلمی بنیادوں پر استوارمعیشت کے درمیان تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نالج بیس معیشت ہی ملکی ترقی کا راستہ ہے۔

آپ نے فرمایا کہ نالج بیس معیشت تعلیم یافتہ اور تخلیقی صلاحیتوں کی حامل افرادی قوت پر منحصر ہے لہذا اعداد و شمار میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ملک کے ہر ایک اقتصادی اور فنی شبعے میں کتنی تعداد میں باصلاحیت، مستعد اور تخلیقی ذہن رکھنے والے نوجوان موجود ہیں۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے استقامتی معیشت کے میدان میں شماریات کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ استقامتی معیشت ہی ملکی مشکلات کے حل کا حقیقی راستہ ہے۔

آپ نے فرمایاکہ کہ اگر دنیا کے تمام راستے ہمارے لیے کھول دیئے جائیں لیکن معیشت ہماری اپنی نہ ہو تب بھی معیشت کا توازن قائم نہیں رہ سکتا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملک کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے نتائج کا جائزہ لینا محکمہ شماریات کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔

آپ نے محمکہ شماریات پر زور دیا کہ وہ ملک کی ترقیاتی پالیسیوں کا جائزہ لے اور ان کے نتائج کے بارے میں اپنی رائے کا بھی اعلان کرے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں، ان پالیسیوں کی اصلاح اور ان پر نظرثانی کی جاسکے۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار