کد خبر ۷۰۶۸ انتشار : ۲۶ آبان ۱۳۹۷ ساعت ۱۴:۵۳
ہنر

بچوں کو رازداری کا ہنر کیسے سکھائیں؟

ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر محترمہ ’’حورا چیت ساز‘‘ نے بچوں کے اندر راز داری کے ہنر کو پروان چڑھانے کے متعلق کہا ہے کہ جس طرح بچوں کو دوسری مہارتیں اور اخلاقیات سکھائے جاتے ہیں انہیں راز داری کا ہنر بھی سکھانا چاہیئے اور چونکہ بچوں کو کتاب،مقالے یا آرٹیکل پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی لہذا عملی طور پر انہیں یہ کرکے دکھانا ہوگا کہ زندگی میں دوسروں کے اسرار کی پاسداری کتنی اہم چیز ہوتی ہے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر محترمہ ’’حورا چیت ساز‘‘ نے بچوں کے اندر راز داری کے ہنر کو پروان چڑھانے کے متعلق کہا ہے کہ جس طرح بچوں کو دوسری مہارتیں اور اخلاقیات سکھائے جاتے ہیں انہیں راز داری کا ہنر بھی سکھانا چاہیئے اور چونکہ بچوں کو کتاب،مقالے یا آرٹیکل پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی لہذا عملی طور پر انہیں یہ کرکے دکھانا ہوگا کہ زندگی میں دوسروں کے اسرار کی پاسداری کتنی اہم  چیز ہوتی ہے؟
اس ماہر نفسیات ڈاکٹر کا یہ ماننا ہے کہ بچوں کو ڈائریکٹ کچھ سکھنا اور ان پر امر و نہی کی صورت کسی چیز کو تھونپا نہیں جاسکتا بلکہ اگر آپ نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو وہ ضدی بن سکتے ہیں  لہذا اس ہنر کو سکھانے کے لئے پہلے والدین کو دوسروں کے رازوں کا پاسدار بننا ہوگا اور بچوں کے ذہن میں راسخ کرنا ہوگا کہ ہمارے گھر کا ایک عام قانون ’’راز و اسرار‘‘ کی پاسداری کرنا ہے۔لیکن اگر والدین خود ہی منھ پھٹ ہوں اور ان کے یہاں کسی دوسرے کے راز ہضم نہ ہوتے ہوں تو پھر بچوں سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ باہر جاکر اپنے گھر کے راز نہ بتائیں۔(البتہ راز ان امور کو کہتے ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی صورت کسی کی عزت،اور مستقبل سے وابستہ ہو)
نفسیات کے ماہرین اور اس شعبہ کے نابغہ لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ اس کام کے لئے آپ کو کسی بڑے پرجیکٹ پر عمل درآمدکرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس میں آپ کا کوئی بڑا خرچ لگے گا بلکہ بہت ہی مختصر عرصہ میں بڑے آرام کے ساتھ  آپ صرف کھیل کھیل میں اپنے بچوں کو راز داری کا ہنر سکھا سکتے ہیں مثال کے طور پر آپ اپنے بچہ کے کھلونوں کو کسی ایسی جگہ چھپا دیجئے جسے آپ اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا نہ جانتا ہو اور پھر آپ بچے سے کہیں: کہ بیٹا یہ میرے اور تمہارے درمیان ایک راز ہے لہذا کسی اور کو اس بارے میں مت بتانا۔پس اگر بچے نے چند گھنٹے اس راز کو چھپائے رکھا اور کسی سے نہ بتایا تو آپ اسے تشویق کیجئے اور کہئے: بیٹا تم بہت اچھے ہو کہ تم نے کسی کو اس جگہ کے بارے میں نہیں بتایا جہاں ہم لوگوں نے کھلونے چھپائے تھے۔
اس کا دوسرا آسان اور اہم طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر بچہ اپنی والدہ سے آکر کوئی بات بتائے اور یہ تأکید کرے کہ وہ اس کے والد کو اس سے مطلع نہیں کریں گی ۔اگرچہ بچے کے بعض امور میں والد کی دخالت بھی ضروری ہوتی ہے۔لیکن اگر اس چیز کے متعلق والد کا باخبر رہنا ضروری ہو تو والدہ کو یہ کوشش کرنا چاہیئے کہ کم از کم بچے کی موجودگی میں اس کے والد کو نہ بتائیں بلکہ جب بچہ کہیں باہر یا اسکول وغیرہ گیا ہو تو اس وقت اس انداز میں بتائیں کہ بچے کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہونچے اور والد کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ بچے کے سامنے اس بات کا تذکرہ نہ کرے جسے اس نے صرف اپنی ماں کو بتایا تھا۔
لیکن ہمارے معاشرے میں عملاً ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر بچے نے کوئی غلطی بھی کی یا کوئی راز آکر اپنی ماں کے سامنے بیان کردیا تو ماں اسے بچے کے سامنے ہی باپ کو سنا دیتی ہے۔جبکہ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔
ایک دیگر نفسیات کے ماہر کا کہنا ہے کہ بچوں کے اندر راز دار ہونے کی اس صلاحیت کے لئے والدین کو ابتداء ہی سے اس امر پر توجہ کرنا چاہیئے تاکہ ان کا بچہ آگے چل کر ،اگر اس کے پاس لوگوں کے راز ہوں تو وہ فاش کرنے سے گریز کرے اور اسرار کے فاش کرنے کا عادی نہ بن جائے۔
اور فرض کیجئے اگر ہمارا بچہ دوسرے لوگوں یا مہمانوں کے سامنے کسی کا راز فاش کرنے لگے تو ایسے وقت میں اس کے ساتھ ہمارا برتاؤ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لہذا والدین کو اس موقع پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیئے جبکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ جب بچہ کسی کے بارے میں کوئی بات کررہا ہوتا ہے تو والدین مزے لے لیکر سنتے ہیں اور دوسروں کو بھی سناتے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ اس بچے کے حق میں جفا اور ظلم کررہے ہیں۔اور در واقع اُسے لوگوں کے اسرار کو فاش کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں ۔اور اگر والدین ایسے موقع پر اپنے بچے کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں تو یہی اس کے لئے سب سے بڑی تعلیم اور سب سے بڑی تربیت ثابت ہوسکتی ہے۔

اخرین اخبار