کد خبر ۶۷۵۲ انتشار : ۱۲ مرداد ۱۳۹۷ ساعت ۲۲:۳۸
امام رضا(ع)

امام رضا(ع) کی نظر میں نماز کی اہمیت

امام رضا(ع)کی نظر میں صرف نمازاور نمازی ہی قابل قدر نہیں بلکہ جس لباس میں وہ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی خاص امتیاز کا حامل ہوجاتا ہے۔دعبل خزاعی کے بھائی اسماعیل ابن علی کہتے ہیں:امام(ع) نے میرے بھائی دعبل کو ایک قمیص ہدیہ کی تھی اور فرمایا تھا:دعبل اس قمیص کی قدر کرنا اور اچھی طرح اس کی حفاظت کرنا کیونکہ اس میں میں نے ہزار راتوں میں ہزار ہزار رکعت نماز پڑھی ہے۔

نماز کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کوئی بھی انسان نماز کے بغیر خدا سے نزدیک نہیں ہوسکتا اور اس کا تقرب حاصل نہیں کرسکتااور کمال کی منزلوں کو طے کرنے کا سب سے اہم،آسان اور مختصر راستہ نماز ہے۔رسول خدا(ص) نے حضرت ابوذر غفاری سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’یَا اَبَاذَر! جَعَلَ اللہُ عَزّ و جلّ قُرَّۃَ عَینِی فِی الصَّلَاۃِ کَمَا حَبَّبَ الجَائِعُ الطَّعَامَ وَ الظَمآنَ المآءَ واَنَّ الجَائِعَ اِذَا اَکِلَ شَبَعَ و اَنَّ الظَّمآنَ اِذَا شَرِبَ رَوَی وَ اَنَا لَا اَشبَعُ مِنَ الصَّلاَةِ ‘‘(مکارم الاخلاق، ص 461)خداوند متعال نے نماز کو میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا ہے۔جس طرح  ایک بھوکے کو کھانے سے اور ایک پیاسے کو پانی سے محبت ہوتی ہے اسی طرح مجھے بھی نماز سے عشق ہے،بھوکے کو جب کھانا ملتا ہے تو وہ سیر ہوجاتا ہے اور پیاسے کو جب پانی ملتا ہے تو وہ سیراب ہوجاتا ہے لیکن مجھے نماز سے اس قدر محبت ہے کہ کبھی اس سے سیر یا سیراب نہیں ہوتا۔
امام رضا(ع)کی نظر میں نماز برترین عمل ہے اور خدا سے قریب ہونے کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہوسکتا۔آپ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے:’’اَلصَّلَاۃُ قُربَانُ کُلِّ تَقِیٍّ‘‘ (من لایحضره الفقیہ، ج 1، ص 210.)نماز ہر پرہیز گار انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے۔
حسن ابن قارن کہتے ہیں:امام رضا(ع) سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنے نوجوان بیٹے پر نماز کے لئے دباؤ ڈالا کرتا تھا لیکن وہ نوجوان  کبھی نماز پڑھتا تھا اور کبھی نہیں پڑھتا تھا۔امام(ع) نے پوچھا: اس لڑکے کی عمر کیا ہوگی؟بتایا گیا: ۸ سال۔امام(ع) نے تعجب سے کہا: سبحان اللہ ،۸ سال کا  ہے اور نماز نہیں پڑھتا ۔کہا گیا :بچہ ہے اس لئے کبھی سستی کرتا ہے اور تھکن کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔امام(ع) نے فرمایا اس کے لئے جس طرح بھی آسانی ہے نماز ضرور پڑھے۔(وسائل الشیعه، ج 4، ص 20)
امام رضا(ع)کی نظر میں صرف نمازاور نمازی ہی قابل قدر نہیں بلکہ جس لباس میں وہ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی خاص امتیاز کا حامل ہوجاتا ہے۔دعبل خزاعی کے بھائی اسماعیل ابن علی کہتے ہیں:امام(ع) نے میرے بھائی دعبل کو ایک قمیص ہدیہ کی تھی اور فرمایا تھا:دعبل اس قمیص کی قدر کرنا اور اچھی طرح اس کی حفاظت کرنا کیونکہ اس میں میں نے ہزار راتوں میں ہزار ہزار رکعت نماز پڑھی ہے۔( بحارالانوار، ج 79، ص 309)

اخرین اخبار