کد خبر ۶۴۲۳ انتشار : ۲۸ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۵:۳۶
امام محمد باقر(ع) کا علمی جہاد

رہبر انقلاب کی نظر میں امام محمد باقر(ع) کا علمی جہاد

امام محمد باقر(ع) نے تحریف کے خلاف جنگ کی، تحریف سے جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مقدس دین اسلام نے بنیادی طور پر اپنے احکام و معارف اور قرآنی آیتوں کے ساتھ اسلامی معاشرہ بلکہ عالم انسانی اور بشری زندگی کے لئے کچھ ایسے شرائط و خصوصیات مقرر کئے ہیں کہ اگر کچھ لوگ انہیں جان لیں اور ان کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ اسلامی معاشرہ میں بعض چیزوں کو برداشت نہیں کرسکیں گے۔

یوں تو امام محمد باقر(ع) کی حیات طیبہ کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے لیکن میں آپ کی حیات کی دو چیزوں کو خصوصیت کے ساتھ بیان کرتا ہوں ایک آپ کے اس جہاد سے عبارت ہے جو آپ نے اسلامی معارف و احکام میں تحریف کے خلاف کیا ہے۔ جو آپ کے زمانہ میں پہلے سے زیادہ واضح اور وسیع پیمانہ پر معارف و احکام میں تحریف ہورہی تھی ۔آپ نے تحریف کے خلاف جنگ کی، تحریف سے جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مقدس دین اسلام نے بنیادی طور پر اپنے احکام و معارف اور قرآنی آیتوں کے ساتھ اسلامی معاشرہ بلکہ عالم انسانی اور بشری زندگی کے لئے کچھ ایسے شرائط و خصوصیات مقرر کئے ہیں کہ اگر کچھ لوگ انہیں جان لیں اور ان کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ اسلامی معاشرہ میں بعض چیزوں کو برداشت نہیں کرسکیں گے۔ مثلاً معاشرہ پر ظالموں، فاسقوں، فاجروں اور دین سے بے خبر لوگوں کی حکومت کو برداشت نہیں کریںگے اور قہری طور پر معاشرہ میں طبقاتی نظام، ثروت کی غیر عادلانہ تقسیم کو بھی تحمل نہیں کریںگے۔ اسلامی معاشروں میں جو فساد پائے جاتے ہیں وہ اسلامی احکام اور اسلامی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
کچھ بادشاہ اور حکمراں رسول(ص) کے خلیفہ کے عنوان سے اقتدار میں آئے تھے (مثلاً بنی امیہ اور مروانی خلفاء) یہ لوگ کسی بھی لحاظ سے اسلامی معاشرہ پر حکومت کرنے کے لائق نہیں تھے انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں خوب فسق و فجور، فتنہ و فساد، ظلم وستم، جہالت، طبقہ بندی مختصر یہ کہ ہر قسم کے انحراف کا ارتکاب کیا۔ اگر اسلامی احکام اور قرآنی آیات کو ان کی اصلی شکل میں مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جاتا تو ان لوگوں کی حکومت کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا تھا بلکہ حکومت پر ان کا قبضہ ہی نہ ہوتا۔ لہٰذا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں تحریف کی، تحریف کے سلسلہ میں انہوں نے متعدد طریقے اختیار کئے، ان میں سے ایک تو یہ تھا کہ بعض فقہاء و علماء، محدثین و قراء اور نمایاں لوگوں کو فریفتہ کرتے تھے، انہیں اپنے پاس رکھتے تھے، کبھی انہیں پیسہ دیتے اور کبھی ڈراتے دھمکاتے تھے۔طمع و خوف اس لئے دلاتے تھے تاکہ یہ لوگ عوام میں اسی چیز کو رواج دیں جسے وہ خود رائج کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اگر آپ حضرات اسلام کی پہلی دو صدیوں میں سے کسی ایک کی تاریخ دیکھیں گے تو عجیب منظر نظر آئے گا۔ مقدس و متقی اور صاحب علم انسان کو ظالم زمامدار اور ستمگر حکمراں کا نوکر دیکھیں گے۔ ان حکمرانوں نے لوگوں پر حکمرانی کرنے کے لئے انہیں بنام اسلام عجیب و غریب قسم کے احکام دے رکھے تھے۔ بطورِ نمونہ ملاحظہ ہو کہ یہ کیسا حکم ہے کہ ایک عالم اس طرح کہتے ہیں: خدا اور قرآن ہمیں اولوا الامر کی پیروی کا حکم دیتے ہیں۔ اور یہ اولوا الامر ہر وہ شخص ہو سکتا ہے جو کسی بھی طریقہ سے لوگوں پر تسلط قائم کرلے، یہ اولوا الامر ہے، چاہے اس نے حیلہ بازی، فریب کاری یا شمشیر زنی اور زورزبردستی سے تسلط قائم کیا ہو۔ مختصر یہ کہ جو شخص کسی بھی طریقہ سے لوگوں پر تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے وہی اولواالامر ہے۔
(آپ دیکھئے کہ)یہ نظریہ اس قدر نامعقول اور غلط ہے کہ اگر اس کا تعلق اسلام یا لوگوں کے ایمان و عقیدہ سے ہو تو کسی کے لئے بھی قابل قبول نہ ہوگا لیکن یہ بکے ہوئے فقہاء و علماء آئے اور انہوں نے اس کو لوگوں کے ایمان و عقیدہ سے متصل کردیا، انہوں نے ایسی ہی اور بہت سی حرکتیں کی ہیں جو صدر اسلام کی پہلی دو صدیوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ ان نمایاں لوگوں کو خلفاء اپنے ساتھ مکہ لے جاتے تھے، مدینہ لے جاتے تھے، لوگوں کو دکھاتے تھے، مجمع عام میں ان کا تعارف کرواتے تھے۔ اس طرح انہیں اپنی تائید کا ذریعہ بناتے تھے۔ یہ بھی دین میں تحریف کا ایک طریقہ تھا۔ اس قسم کے عالم نما، فقیہ نما، زاہد نما، اور مقدس مآب افراد خلفاء کی خدمت میں حاضر رہتے تھے جس چیز کے بارے میں خلفاء یہ چاہتے تھے کہ لوگ اس کے معتقد ہوجائیں یہ اشخاص اسی کو دین کے نام پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ان کی بدعتوں میں سے بہت سی باتیں ابھی تک کتابوں میں موجود ہیں افسوس ہے کہ بہت سے مسلمان ابھی تک ان بدعتوں کو دین سمجھتے ہیں۔

 امام محمد باقر(ع) کا علمی جہاد

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار