کد خبر ۶۴۲۲ انتشار : ۲۸ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۵:۲۶
آیت الله نصرالله شاه آبادی

ستون انقلاب آیت الله نصرالله شاه آبادی کی زندگی پر ایک اجمالی نظر

آیت اللہ نصر اللہ شاہ آبادی نے مسلسل تیس برس تک لوگوں کی دل و جان سے خدمت کی اور آپ ہی کے تعاون کے سبب بہت سے گھر آباد ہوئے کتنوں کو کام ملا اور بسا اوقات حکومتی اداروں کو بھی خطوط لکھنے پڑے آپ کا گھر صبح سے شام تک حاجتمندوں کی ایک پناہ گاہ تھا۔

تہران دو صدی تک علماء و فقہاء کا عظیم مرکز رہا ہے کہ جہاں لا تعداد مدارس موجود تھے جن میں دن رات تشنگان تعلیمات اہل بیت(ع) دور دراز سے آکر سیراب ہوا کرتے تھے لہذا اس علم کے گہوارے میں بہت سے علمی چراغوں نے اپنی ضیاء باریوں سے ظلمت کدوں کو منور بنایا انھیں خاندانوں اور گھرانوں میں سے ایک مشہور اور علمی خاندان آیت اللہ میرزا محمد علی شاہ آبادی کا بھی ہے ۔
آیت اللہ میرزا محمد علی شاہ آبادی حضرت امام خمینی(رح) کے  علم عرفان کے استاد تھے جن کے کئی بیٹے تھے ان میں سے ایک آیت اللہ شیخ نصر اللہ شاہ آبادی بھی تھے۔ 
ولادت 
آیت اللہ شیخ نصر اللہ شاہ آبادی ۲۸ شعبان سن ۱۳۵۰ ہجری کو شہر قم المقدس میں پیدا ہوئے۔
آپ نے اپنی زندگی کا ابتدائی دور قم المقدس میں بسر کیا اور مکتب میں قرآن مجید کے ۲۹ اور ۳۰ ویں پاروں کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر سورہای مبارکہ حفظ کئے تھے کہ والد محترم آیت محمد علی شاہ آبادی کے ساتھ تہران تشریف لے گئے اور پھر ۱۲ سال تک رائج علوم کو پڑھنے کے بعد حوزہ علمیہ تہران میں داخل ہوگئے چنانچہ والد کے بقید حیات رہنے تک تہران ہی میں رہے پھر قم اور اس کے بعد  نجف اشرف تشریف لے گئے۔
نجف اشرف کے حوزہ میں بزرگ علماء جیسا کہ آیت الله سید علی بهشتی آیت الله سید محمد روحانی آیت الله خوئی، شیخ حسین حلی اور سید عبدالهادی شیرازی رحمھم اللہ سے کسب فیض کیا نیز آیت اللہ العظمٰی خوئی سے اجازہ اجتہاد دریافت فرمایا۔
چنانچہ حوزہ نجف اشرف میں آپ کی مشغولیت علماء سے پڑھنا اور اپنے شاگردوں کو پڑھانا تھی۔
پاکستان کا سفر
نجف اشرف سے واپسی پر ۱۹۷۰ء میں مرحوم مولانا میرزا مہدی پویا کی دعوت پر کراچی تشریف لے گئے کہ جہاں آپ کا والہانہ استقبال کیا گیا اور وہاں آپ نے ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی لیکن ۳ مہینہ بعد ہی آپ کو ایران واپس آنا پڑا چونکہ ملیریا کے وبائی مرض میں آپ بھی گرفتار ہوگئے تھے۔ اب جو دوبارہ پاکستان جانے کا ارادہ کیا شاہی حکومت نے آپ کے ایران سے نکلنے پر پابندی عائد کردی جس کے سبب نہ آپ نجف جاسکے اور نہ ہی پاکستان۔
تہران میں قیام کے دوران آپ مسجد لاریجانی میں نماز پڑھانے کے علاوہ دیگر کلچر خدمات سرانجام دیتے رہے اور آپ کا وجود تمام اہل محلہ کے لئے سکون کا باعث اور یتیموں کی سرپرستی کا ضامن تھا۔ آپ نے وہ عظیم خدمات انجام دیں کہ جوانوں کو قبہ خانوں سے مسجد تک لے آئے۔اور آورہ جوانوں کو متدین اور انقلابی جوانوں میں تبدیل کردیا اور آپ کی تبلیغ کا اثر یہاں تک ہوا کہ ان میں سے بہت سے جوان نماز شب کے بھی پابند بن گئے۔
آپ نے مسلسل تیس برس تک لوگوں کی دل و جان سے خدمت کی اور آپ ہی کے تعاون کے سبب بہت سے گھر آباد ہوئے کتنوں کو کام ملا اور بسا اوقات حکومتی اداروں کو بھی خطوط لکھنے پڑے آپ کا گھر صبح سے شام تک حاجتمندوں کی ایک پناہ گاہ تھا۔
وفات
آیت اللہ نصر اللہ شاہ آبادی علم و عمل کا مجسم پیکر، آج بتاریخ ۱۲ مارچ ۲۰۱۸ء مطابق ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۳۹ ہجری کو اپنے رب حقیقی کی بارگاہ میں پہونچ گئے۔

اخبار مرتبط :