کد خبر ۶۴۲۱ انتشار : ۲۷ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۶:۱۸
گلشن عصمت کے پانچویں پھول کی آمد مبارک:

امام محمد باقر(ع) کا حلم

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی اس طرح پیش آتے تھے کہ ان کا بغض آپ کی محبت میں تبدیل ہوجاتا تھا اور پھر وہ آپ کے قدموں سے دور ہونا برداشت نہیں کرپاتے تھے۔

حضرت امام محمد باقر(ع)کی ایک نمایاں صفت حلم ہے ،سوانح حیات لکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام باقر(ع) نے اس شخص پر ستم روا نہیں سمجھا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا ،آپ  ہمیشہ اس سے خو شروئی اور احسان کے ساتھ پیش آتے ،مؤرخین نے آپ کے عظیم حلم کی متعدد صورتیں روایت کی ہیں ۔اُن ہی میں سے ایک واقعہ یوں ہے کہ ایک شامی نے آپ(ع) کی مختلف مجلسیں اور خطبات سُنے جس سے وہ بہت متعجب اور متأثر ہوا اور امام(ع) کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا :جب میں نے آپ کی مجلسیں سنیں البتہ اس لئے نہیں کہ وہ آپ کو دوست رکھتا تھا اور میں یہ نہیں کہتا: میں آپ اہل بیت(ع) سے زیادہ کسی سے بغض نہیں رکھتا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ اور امیرالمؤمنین کی اطاعت آپ سے بغض رکھنے میں ہے ،لیکن میں آپ کو ایک فصیح و بلیغ ، ادیب اور خوش گفتار انسان دیکھتا ہوں ،میں آپ(ع) کے حسنِ ادب کی وجہ سے ہی آپ سے رغبت کرنے لگا ہوں۔ امام(ع) نے اس کی طرف نظر کرم ولطف و مہربانی سے دیکھا ،محبت و احسان و نیکی کے ساتھ اس کا استقبال کیا آپ نے اس کے ساتھ نیک برتاؤ کیا یہاں تک کہ اس شخص میں استقامت آئی ،اس پر حق واضح ہوگیا ، اس کا بغض امام کی محبت میں تبدیل ہوگیا وہ امام کا خادم بن گیا یہاں تک کہ اس نے امام(ع) کے قدموں میں ہی دم توڑا اور اس نے امام علیہ السلام سے اپنی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے وصیت کی ۔{ حیاۃ الامام محمد باقر،ج۱،ص۱۳۱}
امام(ع) نے اس طرز عمل سے اپنے جد رسول اسلام(ص) کی اتباع کی جنھوں نے اپنے بلند اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا، ان کے احساسات اور جذبات کو ہم آہنگ کیا اور تمام لوگوں کو کلمہ توحید پڑھنے کے لئے جمع کیا۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار