کد خبر ۶۴۲۰ انتشار : ۲۷ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۶:۱۵
صحت

ناشپاتی اور سیب سے فالج کا خطرہ کم

ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ 250 ملی گرام کورسیٹن کا استعمال کیا جائے جو پیاز، ہرے پتوں والی سبزیوں، انار، کھٹے رس دار پھلوں، سبز چائے اور لہسن میں بھی پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ورزش، وزن میں کمی اور بلڈ پریشر پر قابو رکھ کر بھی امراض قلب اور فالج سے بچا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سیب اور ناشپاتی میں پایا جانے والا کورسیٹن فوری طور بدن کا جزو بن جاتا ہے۔

ہالینڈ میں کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ناشپاتی اور سیب کھانے سے فالج کا خطرہ 52 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
ان پھلوں میں ایک خاص اینٹی آکسیڈنٹ ”کورسیٹن“ خون کے لوتھڑے بننے سے روکتا ہے اور خون کی روانی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ سفید گودے والے میٹھے پھلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ اگرچہ کورسٹین دیگر کئی پھلوں اور سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن سیب اور ناشپاتی کا معاملہ مختلف ہے۔ہالینڈ کے ماہرین نے 20 ہزار افراد کا 10 سال تک مطالعہ کیا اور بتایا کہ جن افراد نے زیادہ مقدار میں سیب اور ناشپاتی سمیت سفید گودے والے پھل کھائے تھے ان میں فالج کا خطرہ 52 فیصد تک کم دیکھا گیا ہے۔بلڈ پریشر کی زیادتی اور ہائی کولیسٹرول فالج کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اسی طرح سگریٹ نوشی چھوڑ کر سیب اور ناشپاتی کھانے سے فالج کو دور بھگایا جاسکتا ہے۔ ان پھلوں کو کھانے سے صحت بہتر ہوتی ہے اور اس سے سائٹوکائینز بنتے ہیں کہ جو خون کو گاڑھا ہونے سے بچاتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ 250 ملی گرام کورسیٹن کا استعمال کیا جائے جو پیاز، ہرے پتوں والی سبزیوں، انار، کھٹے رس دار پھلوں، سبز چائے اور لہسن میں بھی پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ورزش، وزن میں کمی اور بلڈ پریشر پر قابو رکھ کر بھی امراض قلب اور فالج سے بچا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سیب اور ناشپاتی میں پایا جانے والا کورسیٹن فوری طور بدن کا جزو بن جاتا ہے۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار