کد خبر ۶۴۱۴ انتشار : ۲۷ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۵:۳۵
ولی فقیہ اور اسلامی انقلاب

ولی فقیہ اور اسلامی انقلاب کی حمایت میں لکھنو میں عظیم الشان اجلاس کا انعقاد

ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای اور اسلامی انقلاب ایران کی حمایت میں لکھنؤ میں ایک عظیم الشان اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں لکھنؤ اور بیرون لکھنؤ سے بڑی تعداد میں علماء، فضلاء اور مختلف تنظیموں کے اراکین نے شرکت کی۔

مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے’’ رہبر انقلاب آیۃ اﷲ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی کی شخصیت اور کارنامے ‘‘کے عنوان سے چھوٹے امامباڑے میں منعقد ہونے والا عظیم الشان جلسہ واقعاً عظیم الشان اور بے مثل و بے نظیر ہوگیا۔ پروگرام شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے ہی آدھی نشست گاہیں بھرچکی تھیں اور آدھے گھنٹے کے بعد لوگ کھڑے دکھائی دینے لگے،۔مجمع کی آخری حد چھوٹے امامباڑے کے دروازے تک تھی اور چاروں طرف عوام و خواص کا سیلاب دکھائی دے رہا تھا۔ منتظمین بے لوث خدمت انجام دیتے ہوئے حاضرین کا استقبال کررہے تھے۔ 
پرورگرام مقررہ وقت ۳۰:۷؍بجے شب کو شروع ہوگیا۔پروگرام کا آغاز مولانا باقر رضا نے تلاوت قرآن کریم سے کیا اور اسکے بعد مولانا صابر علی عمرانی نے مرجعیت اور رہبر معظم کی شان میں خراج عقیدت پیش کیا،اسکے علاوہ جناب الماس رجیٹوی نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔جلسہ کی نظامت کی ذمہ داری مولانا مراد رضا نے بحسن و خوبی سنبھالی ۔
جلسہ کی افتتاحی تقریر کرتے ہوئے مولانا منظر صادق نے اسلام میں سیاست کی اہمیت اور رہبر انقلاب کی ۳۰سالہ کامیاب فقیہانہ حکومت پر زور دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر کیا سبب ہے کہ ۳۰سال بعد آپ کو ولی فقیہ کی حکومت غلط لگنے لگی ؟درحقیقت دشمن ہر جگہ سے ہار چکا ہے اس لیے ہماری صفوں میں انتشار پیدا کرکے کامیاب ہونے کی کوشش کررہا ہے۔مولانا صفدر حسین جونپوری نے ولی فقیہ کے دشمنوں کو متنبہ کیا کہ جو ولایت کے راستے کی مخالفت کرے گا یہ علما اور یہ اجتماع اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔اسکے بعد ناظم جلسہ نے امیرالعلماء مولانا حمید الحسن صاحب قبلہ کے بیانیہ کی قرائت کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب کی شان میں جسارت کرنے والوں کو توبہ کرلینا چاہیے ورنہ دشمن اسلام اس سے مزیدفائدہ اٹھائے گا۔امیرالعلماء کے بیانیہ کے بعد مولانا جابرجوراسی نے صاف طور پر کہا کہ یہ دشمنی، پیسے ہی کا کھیل ہے لیکن یہ کھیل کہاں سے ہے یہ دیکھنا چاہیے۔ جب چور چوری کرکے بھاگتا ہے تو خود چور چور چلانے لگتا ہے تاکہ بھیڑ میں چھپ جائے۔
آپ کے بعد دہلی سے تشریف لائے عالم مولانا سید محمد عسکری صاحب نے ایک وقیع اور مایہ ناز تقریر کرتے ہوئے رہبر انقلاب کی شخصیت کے پوشیدہ گوشوں کو اجاگر کیا ۔آپ نے بتایا کہ ۱۸سال کے سن میں انہیں ان کے استاد نے اجازہ روایت اور اجازہ اجتہاد عطا کردیا تھا۔ آپ جامع علوم ہیں ۔آپ چھ بار قیدخانے میں گئے اور وہاں انواع و اقسام کی اذیتوں سے دوچار ہوئے۔ قائد انقلاب امام خمینیؒ نے آپ کے سلسلے میں فرمایا کہ جب آقای خامنہ ای تم لوگوں کے درمیان ہیں تو مستقبل میں کوئی مشکل نہیں آئے گی،۔آیۃ اﷲ فاضل لنکرانی، آیۃ اﷲ مشکینی، آیۃ اﷲ جوادی آملی اور دیگر معروف فقہا نے آپ کی علمی شان کو اجاگر کیا۔ ۸۸عادل فقہا کی کمیٹی نے آپ کو اکثریت کے ساتھ ولی فقیہ بنایا اور آپ کے مسلسل انکار کے بعد فقہا کی کمیٹی نے یہ فیصلہ سنایا کہ یہ آپ کا حق نہیں ہے کہ آپ لینے سے انکار کردیں بلکہ یہ آپ پر فرض ہے جسے قبول کرنا آپ پر واجب ہے۔آیۃ اﷲ خامنہ ای کی شجاعت، ہمت اور جرئت ایسی مشہور ہے کہ دشمن آپ کے نام سے ڈرتا ہے۔ آج ایران ٹیکنالوجی، علمی، اقتصادی، سماجی اور دیگر میدان میں عالی مقام پر فائز ہے۔
مولانا سید ڈاکٹر کلب صادق نقوی نے نہایت مختصر تقریر کے ذریعہ ذہنوں کو بیدار کرنے کا کام کیا اور اپنے مشن کے مطابق فرمایا کہ اصل بات بہ ہے کہ لوگ آیۃ اﷲ خامنہ ای کو پہنچانتے نہیں ہیں۔ انکی مخالفت کا اصل سبب جہالت ہے۔ آج اس پروگرام سے انکی شخصیت کو متعارف کرانے کی اچھی ابتدا ہوئی ہے۔ عدو شود سبب خیر گرخدا خواھد ،مجھے بہت تکلیف ہوئی اس لیے میں نے یہ قدم اٹھایا۔ میں نے بہت قریب سے آیۃ اﷲ خامنہ ای کو دیکھا ہے۔ وہ فقیرانہ غذا کھاتے ہیں یونائیٹیڈ نیشن میں ان کی دلیرانہ تقریر میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ لوگ آپس میں لڑگئے تو جو دشمن چاہتا ہے اس میں کامیاب ہوجاے گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو سمجھائیے۔ جو تکلیف مجھے پہنچی تھی اس کا آج اس پروگرام کے ذریعہ بہت حد تک ازالہ ہوگیا۔
آخر میں صدر جلسہ اور مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی صاحب نے کہا کہ لکھنؤ کو سازشوں کا گڑھ بنادیا گیا ہے اِس لکھنؤ میں سعودی عرب اور اسرائیل کے افراد آکر میٹنگ کرتے ہیں اور اس کا عنوان ہوتا ہے کہ اگر کسی دن ایران پر حملہ ہوا تو لکھنؤ کے شیعوں کا ردّعمل کیا ہوگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ دشمن کی نگاہ میں لکھنؤ کی بڑی اہمیت ہے۔ دوسروں کو مقصر کہنے والے جب میدان جنگ کی بات آتی ہے تو وہاں مقصّر ہوجاتے ہیں ،اور جن پر مقصر ہونے کا الزام عائد کرتےہیں وہی ایرانی قوم اور حزب اللہ کے مجاہد مقدسات کی حفاظت کے لئے جان کی قربانیاں دیتے نظر آتے ہیں۔سامراجی نظام ایرانی نظام کو کبھی ختم نہیں کرسکتا ۔یہ اس وقت بھی ممکن نہیں ہوا جب پوری  پارلیمنٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا جس میں صدر اور وزیر اعظم بھی شہید ہوگئے تھے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہاں کی عوام اور علماء ولی فقیہ کے شانہ بہ شانہ ہیں ۔
پروگرام کے نظام اور کنوینر مولانا مردارضانے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے وقفہ وقفہ سے ولایت فقیہ کے مفہوم و معانی پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ وَلایت اگر زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا معنی حکومت ہے اور اگر وِلایت زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا مطلب حکومت اور قدرت کو استعمال کرنا ہے۔ ولایت فقیہ یعنی اسلامی حکومت کے حاکم کے خصوصیات و شرائط ۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ فقیہ کی ولایت عین رسول خداؐ کی ولایت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقیہ امام معصوم کی جگہ پر کوئی نیا معصوم ہوگیا بلکہ امام معصوم اور پیغمبر اکرم کے مختلف منصب ہیں جن میں پیغمبر پر وحی نازل ہونا وحی کو بیان کرنا، عصمت، لڑائی جھگڑے ختم کرانا اور حکومت کرنا ۔امام پر وحی نازل نہیں ہوتی بقیہ سارے منصب موجود ہیں ۔فقیہ کو حکومت اور لڑائی جھگڑے ختم کرانے کا منصب معصوم نے عطا کیا ہے پس یہ سوال خودبخود ختم ہوگیا کہ علی ؑ کی ولایت مانیں یا فقیہ کی۔ دونوں ایک ہی چیز ہے۔
آخر میں منتظمین کی طرف سے موجودہ علما اور حاضرین کے سامنے ۹ نکاتی بیانیہ پڑھا گیا جس کی حاضرین نے تکبیرکے ذریعہ تائید کی۔
۱۔ رہبر انقلاب آیۃ اﷲ العظمیٰ خامنہ ای اور نظام ولایت کی اجتماع میں موجود تمام علما اور حاضرین بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
۲۔ رہبر انقلاب آیۃ اﷲ العظمیٰ خامنہ ای۔ اور نظام ولایت کے خلاف ہر طرح کی سازش اور گستاخی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
۳۔ لندن کی خفیہ ایجنسی M16 کے ہاتھوں اپنے ضمیر کا سودا کرنے والے نام نہاد شیعہ چاہے وہ کسی بھی شکل، لباس یا علاقے میں ہوں عوام کو ان کی سازشوں اور تخریبی منصوبہ نندیوں سے مسلسل آگاہ رہتے ہوئے دوری اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
۴۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق افراد کے ذریعہ حق و باطل کی تشخیص کے بجائے خود کو حق کو افراد کی شناخت کا ذریعہ بنایا جائے۔
۵۔ بقول رہبر انقلاب آیۃ ﷲ العظمیٰ خامنہ ای:۔لندنی شیعیت اور امریکی سنیت کے باطل افکار کو سمجھنے کے لیے حق و باطل کے میعار کی پرکھ ضروری ہے۔
۶۔ مسلمانوں اور اپنی صفوں کے درمیان اتحاد، دین اسلام کا بنیادی پیغام اور دورِحاضر کی شدیدترین ضرورت ہے اور کسی بھی شکل میں اس کی مخالفت باطل کو تقویت پہنچاتا ہے۔
۷۔ عالمی سامراج خصوصاً سعودی یہودی اتحاد کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار ہونے والے مظلوموں کی حمایت کرتے ہوئے ہم اُن ظالموں سے اپنے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔
۸۔ لندنی شیعیت کے آلہ کار یاسر حبیب، اﷲ یاری، توحیدی، مجتبیٰ شیرازی اور حسین شیرازی جیسے دین فروش افراد سے ہم لوگ اپنی برائت کا اعلا ن کرتے ہیں۔
۹۔ یہ اجتماع علمائے کرام سے اپیل کرتا ہے کہ مشکوک عناصر کی نفاب کشائی کرنے میں کسی بھی قسم کی مصلحت اور رواداری کو راہ نہ دیں۔
 اس پروگرام میں کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی اور مختلف تنظیموں کے مالی تعاون سے یہ پروگرام منعقد ہوا جن میں مجلس علمائے ہند، نور ہدایت فاؤنڈیشن، امام زمانہ ٹرست ،محبّان امّ الائمہؑ تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ، ادارہ اصلاح، ادارہ مقصد حسینی، وحدت پبلیکیشن  المؤمل کلچرل فاؤنڈیشن، طٰہٰ فاؤنڈیشن، مدرسہ سلطان المدارس، حوزہ علمیہ غفرانمآب، الحراء کالج، وثیقہ عربی کالج، فیض آباد، جامعۃ الزہرا مفتی گنج، عین الحیات ٹرسٹ، ہدیٰ مشن، ادارہ بیّنات، ادارہ ریاض القرآن، مجلس علماوخطبا امامیہ بہار، جامعہ حیدریہ خیرآباد، جامعۃ المصطفیٰ الامامیہ سیتاپور، اسلامک ٹورس اینڈٹراولس، حسینیہ بیت الحزن وارانسی، مدرسہ انوار العلوم الٰہ آباد ، جامعہ امام جعفر صادقؑ جونپور، جامعہ بنت الہدیٰ جونپور، ولی عصر اکیڈمی، ادارہ القائم فیض آباد، البلاغ آرگنازیشن علی پور کرناٹک، تنظیم حیدری لکھنؤ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے ادارے ہیں جو اس میں شامل ہونے پر آمادہ تھے۔ تمام منتظمین لکھنؤ کے تمام مدارس کے اساتذہ اور طلاب کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی اسی طرح کوپاگنج سے تشریف لانے والے علما اور طلاب جو مولانا شمشیر علی مختاری کی قیادت میں جامعہ جعفریہ کی طرف سے پروگرام میں آئے تھے تشریف فرمائی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔پروگرام کے کنوینر مولانا سید مراد رضا رضوی صدر محبّان امّ الائمہ تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ نے تمام منتظمین اور رضاکاروں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے بڑی محنت و مشقت اور خلوص نیت سے اس عظیم الشان جلسہ کو کامیاب بنانے میں تعاون کیا۔خاص طور پر تمام میڈیا پارٹنرز جن میں صحافت اور اودھ نامہ کے علاوہ مجلس علما نیوزپورٹل، روزنامہ انقلاب، روزنامہ آگ، اور روزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ قومی خبریں وغیرہ نہایت اہم ہیں۔

اخبار مرتبط :