کد خبر ۶۴۱۳ انتشار : ۲۷ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۵:۲۹
امام بارگاہ

لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی! (1)

لندن کے یہودی اکثریتی علاقے میں ایک حسینیہ یا امام بارگاہ کا حال، جس کا تعلق مسلمانوں سے نہیں یہودیوں سے ہے۔

منطق کا تقاضا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو بہت نمایاں کرنے کے لئے اس کی مخالفت کی جاتی ہے، اس کے خلاف تحریکیں چلائی جاتی ہیں، اس چیز کے حامیوں پر الزامات لگائے جاتے ہیں اور جب بالکل نمایاں ہوجاتی ہے تو بڑے بوڑھوں کو بلایا جاتا ہے اور اس کی مخالفتیں ختم کی جاتی ہیں اور اسے تسلیم کیا جاتا ہے.
یہی کچھ لندن میں شیرازی فرقے کی امام بارگاہ “حسینیہ رسول اعظم(ص)” کے ساتھ ہؤا جس کو در حقیقت وہابیت اور یہودیت کی یکسان حمایت اور برطانوی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے.

پہلا مرحلہ؛ 
عوامی شور شرابہ، نفسیاتی ماحول سازی
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ؛ لندن کی واحد یا پھر دوسری بڑی یہودی آبادی میں شیرازی فرقے کا حسینیہ، چھوٹوں کی مخالفت
یروشلم پوسٹ: یہودی کمیونٹی میں اس منصوبے کی مخالفت کے باوجود بعض یہودی عمائد نے اس منصوبے کی مخالفت کو اسلام فوبیا کا مظہر قرار دیا
رپورٹر: ایتن ہیلن (Eytan Halon)، گیارہ اکتوبر 2017
لندن میں ایک علامتی میوزک سینٹر کو مسجد اور اسلامی سماجی مرکز کے منصوبے کو شدید تنقید کا سامنا ہے.
ماہ جولائی 2017 کو مرکز برائے اسلامی تربیت (Center for Islamic Enlightening) نے گولڈر گرین (Golders Green) میں گھڑ دوڑ کا میدان خرید لیا جس کے آس پاس بہت بڑی یہودی آبادی سکونت پذیر ہے اور اس وقت وہاں کی مقامی کونسل اس کی عمارت کی مسجد میں تبدیلی کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے درپے ہے. جبکہ یہ عمارت خاص قسم کے استعمال کے لئے محدود ہے. (ایک رپورٹ کے مطابق یہ عمارت یا کمپلیکس اس ادارے نے 2007 میں خرید لیا تھا)۔
اس سے قبل اس عمارت کی گرجاگھر میں تبدیلی کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اس جائیداد کی مسجد اور کنیسے میں تبدیلی ابھی تک مجاز نہیں ہے.
متعلقہ [شیرازی فرقے کے] خیراتی ادارے نے البتہ بارنٹ کونسل سے درخواست کی ہے کہ گرجاگھر (چرچ) کے لفظ کو “عبادت گاہ” میں بدل دے [اور یہ درخواست منظور ہوئی].
یہ عمارت اس سے قبل تقریبا ایک صدی سے بی بی سی کا کنسرٹ آرکسٹرا بھی رہا ہے، برطانوی ٹی وی اور موسیقی اور تھئیٹر کی میزبانی کرتی رہی ہے اور 2004 میں بند ہوئی تو اس وقت سے اپنے لئے دائمی مالک تلاش کرنے میں مصروف رہی.
ایک کیمپین بھی چلائی گئی جس کا عنوان تھا (GoldersGreenTogether (@GG_Together))، ایک پٹیشن پر 4000 مقامی افراد نے دستخط بھی کئے اور لوکل کونسل کو اس عمارت کی مسجد میں تبدیلی کے خلاف اب تک 200 مکتوب درخواستیں بھی ہوئیں.
مخالفین میں سے بعض نے یہاں بھاری ٹریفک اور مقامی اسپتال تک رسائی میں مشکلات نیز راتوں کے شور و غل کو ہدف تنقید بنایا اور بعض دوسروں نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے اجتماع سے تشویش ظاہر کی.
ایک شخص نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر یروشلم پوسٹ سے کہا: “میں یہاں مسلسل اور باربار دیکھنے والوں کے ہجوم سے ـ جو ہم پر ٹھونس دیئے گئے ہیں اور خطرناک بھی ہیں ـ خوفزدہ ہوگیا ہوں؛ وہ کافروں بالخصوص یہودیوں کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں”.
دوسرے شخص جوزفین بیکن (Josephine Bacon) نے کہا: “برطانیہ کی دو بڑی اور اہم آبادیوں میں سے ایک کے قلب میں مسلمانوں کے بڑے اداروں کی تعیناتی بہت خطرناک ہے اور تشدد اور دہشت گردی پر منتج ہوسکتی ہے.
ریچلیلے مارکس (Rachelle Marks) نے لکھا: “برقعوں اور چادروں نے علاقے کا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے … ٹریفک بہت بھاری ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کس چیز کی تبلیغ کررہے ہیں کیونکہ ان کی زبان عربی ہے”.
رابرٹ سر (Robert Sur) نے فیس بک پر اسی کیمپیین کے سلسلے میں لکھا: “ہم اپنی مخالفت کو پوری سچائی سے بیان کیوں نہ کریں، ہم کیوں نہ کہیں کہ ہمیں اس علاقے میں مسجد نہیں چاہئے، کیونکہ یہ لندن میں باقی واحد یہودی علاقہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ علاقہ یہودیوں سے نفرت کرنے والے دہشت گرد مسلمانوں کے ہاتھوں آلودہ اور ناپاک ہوجائے”. [قارئین محترم! براہ مہربانی اگلے مرحلے کا انتظار کیجئے]
دوسرا مرحلہ: 
یہودی فیصلہ سازوں کی ہمدردیاں!
اس رپورٹ کے مطابق یہودی کمیونٹی کے اندر کے بعض نامی گرامی افراد نے اس کیمپین پر شدید تنقید کی، اس کو اسلام فوبیا کا شاخسانہ قرار دیا، جن مین کئی فیصلہ ساز یا قانون ساز اور اخبارنویس بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اسلام فوبیا سے سب سے بڑا فائدہ یہودی اٹھاتے ہیں اور مغربیوں کو اسلام سے خوفزدہ کرنے میں سب سے بڑا کردار بھی یہودیوں کا ہے لیکن جہاں وہ شام میں لڑنے والے وہابی تکفیریوں کا علاج معالجہ کرکے اور ان کی فوجی اور مالی مدد کرکے وہابیت کو یہودیت کا تسلسل ثابت کررہے ہیں وہاں انگریزی شیعوں کے لئے مسجد و امامبارگاہ بنوانے میں کردار ادا کرکے جتا رہے ہیں کہ “شیعوں کے درمیان بھی ہمارے سپاہی کافی سارے ہیں چنانچہ یہودی مفکرین اور اہلکاروں کی مدد ایک باقاعدہ سمجھوتے ہی کا ثمر ہوسکتا ہے، اور اگر اس کو ایسے ہی سطحی لیا جائے تو، ہماری سادگی ہوگی، اور اگر سوچ لیں کہ یہودی پیشگی منصوبے کے بغیر کوئی فیصلہ کرتے اور موقف اپناتے تو بڑی طاقتوں کے پورے نظامات پر مسلط نہ ہوسکتے.
یروشلم پوسٹ مزید لکھتا ہے: برطانوی پارلیمان کے ایک سیاسی مشیر جے اسٹول (Jay Stoll) نے 2015 میں “گولڈن_گرین_ٹوگیدر @GG_Together” کے عنوان سے ہی کیمپین چلایا تھا لیکن ان کا مقصد اس یہودی علاقے میں نیونازیوں کی بڑھتی موجودگی کا مقابلہ کرنا تھا.
جے اسٹول کا کہنا تھا: “میں نے دو سال قبل ایک کمیپین کا آغاز کیا تا کہ برطانیہ کے گنجان یہودی آبادی میں نیونازیوں کی موجودگی اور مظاہرے پر اعتراض کرسکوں؛ لیکن بہت ہی باعث ناامیدی ہے کہ وہی نعرہ آج ایک مسجد کے منصوبے کے مقابلے میں سنائی دے رہا ہے؛ یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ یہ نیا کیمپین اسی کیمپین کی ترجمانی کررہا ہے جس کا آغاز میں نے کیا تھا”.
یہودی جریدے “جیوش کرانیکل” (Jewish Chronicle) کے سیاسی ایڈیٹر مارکوس ڈیش (Marcus Dysch) نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر لکھا: “مشکل ہے کہ اس کیمپین کو ناقابل معافی اور شورمچاتی اسلام فوبیا کے سوا کچھ اور سمجھا جاسکے. یہ برطانوی یہودیوں کے لئے شرمناک ہے”.
لندن کے ایک اور یہودی باشندے سٹیو ویلر (Steve Weller) نے کہا: “یہ بہت تکلیف دہ اور نفرت اور اسلام فوبیا شکایت کرنے والوں کے لئے. آپ اندازہ لگائیں کہ اگر اس عمارت کے موجودہ کردار کو پلٹا دیا جائے، تو لوگ کیا کہیں گے.
یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ اسی اثناء میں جواب دینے والوں میں سے 150 [یہودی] افراد نے اس عمارت کی مسجد میں تبدیلی کے منصوبے کی تحریری حمایت کی ہے. بہت سے لوگ اس عمارت کے بیرونی منظر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس عمارت کو ایک نیک کام کے لئے استعمال کیا جائے گا!!!
اسی رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2017 میں متعلقہ اسلامی مرکز [شیرازی فرقے کے ہیڈکوارٹر] کے نمائندوں نے کہا تھا کہ یہ اںہیں امید ہے کہ اس علاقے میں دوسرے عقائد کے پیروکاروں کے ساتھ تعاون کریں گے.

اخبار مرتبط :