کد خبر ۶۴۰۹ انتشار : ۲۶ اسفند ۱۳۹۶ ساعت ۱۵:۵۵
خطیب نماز جمعہ:

دشمن ایسی پارلیمنٹ کا خواہاں نہیں جس میں بسم اللہ کہی جاتی ہو/ دشمن کو ایسی عدلیہ چاہیے جو اس کی مرضی کے مطابق ہو

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے ایران کے خلاف دشمن کی مسلسل اور پیہم سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن در حقیقت اسلامی نظام کے خلاف ہے اسے ایران میں ایسے اداروں کی تلاش ہے جو اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور دشمن کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی ۔ خطیب جمعہ نے ایران کے خلاف دشمن کی مسلسل اور پیہم گھناؤنی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن در حقیقت اسلامی نظام کے خلاف ہے اسے ایران میں ایسے اداروں کی تلاش ہے جو اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور دشمن کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں۔

آیت اللہ امام کاشانی نے ایرانی عدلیہ کے خلاف دشمن کی تنقید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کو ایران میں ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جو اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق کام کرے وہ اسلامی عدلیہ اور اسلامی احکام کے خلاف ہے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے 1331 ہجری شمسی میں ملک کی تھوڑی سی کھلی فضا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس زمانے میں فضا کو کچھ حد تک باز کیا کیونکہ وہ برطانیہ سے تیل لینا چاہتا تھا اسی لئے اس نے ایران میں قومی محاذ پارٹی کے افراد کو پارلیمنٹ کے لئے نامزد کروایا ؛ لیکن بازاریوں نے مرحوم راشد کو اپنا نمائندہ منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیج دیا۔ مرحوم راشد جب پارلیمنٹ میں اپنے خطاب سے قبل بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تھے تو پارلیمنٹ کے نمائندے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ منبر نہیں ،پارلیمنٹ ہے۔

آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ دشمن نے ایران کے لئے دو کاموں کا انتخاب کرلیا ہے ایک ملک میں بدامنی پھیلانا اور دوسرے عوام پر اقتصادی دباؤ برقرار کرنا لہذا ایرانی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے سخت شرائط میں عوام کی خدمت کریں۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ دشمن ایسی پارلیمنٹ کا خواہاں نہیں جس میں بسم اللہ کہی جاتی ہو یا جس میں اللہ تعالی کا نام لیا جاتا ہو اسے ایسی پارلیمنٹ چاہیے جو اس کی مرضی کے مطابق قوانین وضع کرے اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرے۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ ہم اہلبیت (ع) کے راستے پرگامزن ہیں اور ہمیں اپنے معاشرے میں ان کی تعلیمات کو فروغ دینا چآہیے اور اللہ تعالی اور اس کے پیاروں کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

.......

اخبار مرتبط :