کد خبر ۵۹۸ انتشار : ۲۳ مرداد ۱۳۹۵ ساعت ۲۳:۴۲
شامی عیسائی مذہبی رہنما

شام بقائے باہمی اورمذاہب کے درمیان رواداری کی عظیم مثال: شامی عیسائی مذہبی رہنما

شام کے ایک عیسائی مذہبی رہنما نے شام کی حقیقی صورتحال سے دنیا بھر کی عوام کو آگاہ کرانے میں مذہبی شخصیات کے اہم رول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ شام میں جاری بیرونی دہشتگردی کو دنیا بھر کی عوام کےسامنے پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

شامی وزیر اعظم عماد خامس کےساتھ ملاقات میں شامی عیسائی مذہبی رہنما’’گرگوری لحام ‘‘نے شام کی حقیقی صورتحال سے دنیا بھر کی عوام کو آگاہ کرانے میں مذہبی شخصیات کے اہم رول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ شام میں جاری بیرونی دہشتگردی کو دنیا بھر کی عوام کے سامنے پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام بقائے باہمی اورمذاہب کےدرمیان رواداری کی ایک عظیم مثال کے طورپر باقی رہےگا۔

انہوں نےکہاکہ شام  فوج اورعوام کی استقامت سے دشمنوں کو شکست دےگا۔

اس ملاقات میں شام کے وزیر اعظم عماد خامس نے کہاکہ دہشتگردی وانتہاپسندی کےخلاف عوام کو متحد کرنے میں عیسائی ومسلم علمائے کرام کا کلیدی کردار ہے۔

اسے قبل لبنان کے دارالحکومت بیروت میں گذشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں گرگوری لحام نے دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے متحدہ بین الاقوامی کوششوں کا مطالبہ کرتے ہوئے شام ،عراق ،فلسطین اوردنیا کےدیگر ممالک میں ہورہے دہشتگردانہ حملوں کو انسانیت کیلئے شرمناک قراردیاتھا۔

انہوں نےکہاتھاکہ خطے میں سرگرم تکفیری تحریکیں شام ،عراق ،یمن اورلیبیا جیسے ممالک کو تباہ کررہے ہیں ۔

انہوں نے مسلمانوں اورعیسائیوں سے مطالبہ کیاتھاکہ وہ تکفیری دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے متحد ہوجائیں ۔

انہوں نےکہاتھاکہ علاقے میں فروغ پارہی انتہاپسندی اوردہشتگردی سے بقائے باہمی کو خطرہ لاحق ہےاورعرب ممالک آج جس سنگین صورتحال سے دوچار ہے اسرائیلی سازشوں کا ہی نتیجہ ہے۔

انہوں نےمقبوضہ فلسطینی علاقوں پر صیہونی قبضے کو مشرق وسطیٰ کے موجودہ مسائل کی بنیادی  وجہ قراردیتے ہوئے کہاتھاکہ صیہونی خطے کو غیر مستحکم اور فلسطینیوں کو بے گھر کررہے ہیں۔

واضح رہےکہ شام کو سن دوہزار گیارہ سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں۔ دہشت گردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں، دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار