کد خبر ۵۸۶ انتشار : ۱۰ خرداد ۱۳۹۵ ساعت ۰۵:۱۴

یورپ میں اسلاموفوبیا اور مہاجر دشمنی میں اضافہ

نسل پرستی اور تعصب کی روک تھام کے یورپی کمیشن ای سی آر آئی نے یورپ میں اسلاموفوبیا اور مہاجر دشمنی میں اضافے کی خبر دی ہے-

سالانہ رپورٹ کے مطابق پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد پورے یورپ میں اسلاموفوبیا اور پناہ گزینوں کے خلاف دشمنانہ جذبات بڑھے ہیں- ای سی آر آئی کی رپورٹ میں آیا ہے کہ پناہ گزینوں سے دشمنی صرف دائیں بازو کی پارٹیوں کے حامیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تمام یورپی معاشرے میں پھیل چکی ہے - نسل پرستی اور تعصب کی روک تھام کے یورپی کمیشن کے سربراہ کریسٹن آلونڈ نے کہا کہ یورپی ممالک کو چاہئے کہ نسلی تشدد کے خلاف جد و جہد کریں اور پناہ گزینوں کے سلسلے میں متحدہ پالیسی پر عمل پیرا ہوں -

نسل پرستی کی روک تھام کے یورپی کمیشن کی رپورٹ ، پیرس میں نومبر دوہزار پندرہ اور بریسلز میں مارچ دوہزار سولہ کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد یورپ میں اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی میں شدت آنے کی عکاسی کرتی ہے- اسلاموفوبیا اور مسلمانوں سے دشمنی کی شکل میں اغیار دشمنی اور نسل پرستی ، دائیں بازو کی انتہاپسند جماعتوں اور گروہوں کی جانب سے انجام دی جاتی ہے اور یورپی ذرائع ابلاغ میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ حکومتوں کے اشارے پر کیا جاتا ہے اور یہ موضوع یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج اور مسئلہ بن گیا ہے-

یورپی ممالک کے بعض حکام کے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے اور ان ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت کے دعؤوں کے باوجود عملی طور پر فرانس ، بیلجیئم اور برطانیہ سمیت بہت سے یورپی ممالک میں مہاجر مسلمانوں کے خلاف پابندیوں اور اسلام کے مقدس مقامات پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے- مغربی ممالک میں یہ مشکل اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان ممالک کے بعض اعلی حکام کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا ہے-

فرانس کے وزیر اعظم مانوئل والس نے اپریل دوہزار پندرہ میں کہا تھا کہ فرانس میں نسل پرستی اور مسلمانوں سے نفرت و دشمنی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مسلمانوں کو ان کے عقائد کی بنا پر نشانہ نہیں بنانا چاہئے ان بیانات کے باوجود یورپی ممالک کی حقیقت اس کے برعکس ہے - اسلاموفوبیا اور مسلمانوں سے دشمنی کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے انسداد نسل پرستی کی کمیٹی سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقیدوں میں بھی اضافہ ہوا ہے- البتہ مہاجرت اور یورپ کی جانب ہزاروں پناہ گزینوں کی روانگی جن میں اکثر مسلمان ہیں، مہاجر دشمنی ، اغیار دشمنی اور سرانجام اسلامو فوبیا اور یورپ میں مسلمانوں کی موجودگی کی مخالفت بڑھنے کا باعث بنی ہے خاص طور پر ایسی حالت میں کہ جب پناہ گزینوں کے درمیان انتہاپسندوں کی موجودگی اور یورپ میں ان کی در اندازی اور داخل ہوجانے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور اسی مسئلے نے پناہ گزینوں کے یورپ میں داخل ہونے اور انھیں پناہ دینے کی مخالفت بڑھا دی ہے-

اس وقت جرمنی میں پگید، فرانس میں قومی محاذ پارٹی اور برطانیہ میں خودمختار پارٹی جیسے انتہاپسند گروہوں نے مسلمان مہاجرین سے یورپی معاشروں کو درپیش خطرے کے بہانے ان کے خلاف سیاسی اور تشہیراتی مہم شروع کر دی ہے- دائیں بازو کے انتہاپسند گروہ، یورپ میں رہائش پذیر معدودے چند مسلمانوں کے منفی عقاید اور اقدامات کو معیار قرار دیتے ہوئے اور ان عقاید کے سب میں سرایت کر جانے کو بہانہ بناتے ہوئے تمام مسلمانوں کے بارے میں ایک مجموعی حکم جاری کرتے ہوئے اسلام اور سارے مسلمانوں کو تشدد پسند اور متعصب ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ غیر منطقی ہے بلکہ غیر منصفانہ بھی ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار