کد خبر ۵۷۳۲ انتشار : ۱۹ مهر ۱۳۹۶ ساعت ۱۷:۵۳
مثالی حکومت

قرآن مجید کی نظر میں مثالی حکومت

اگر الہی معیار کے مطابق حکومت اور سماج بھی میسر ہوجائے تو یہ سفر نہایت آسانی سے کٹ سکتا ہے لہذا ایک الہی اور مثالی حکومت کا قیام تمام ہادیان برحق کے تبلیغی سسٹم میں سرفہرست رہی ہے،چونکہ طاغوت کے زیر سایہ،کمال کا یہ سفر طولانی نظر آنے لگتا ہے،واضح سی بات ہے کہ جب ہر طرف مادیات کا غلبہ ہو اور کہیں صبغۃ اللہ نظر نہ آئے تو انسان کے لئے منزل تک پہونچنا دشوار اور سخت بن جاتا ہے۔

قرآن مجید کتاب ہدایت ہے،اللہ نے اس عظیم کتاب کو ایک ضابطہ حیات کی صورت اپنے حبیب حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اقدس پر نازل کیا تاکہ بنی نوع بشر کمال حقیقی تک پہونچ سکیں،اگرچہ اس کمال کا تعلق اس دنیا میں بہترین اور احسن طریقہ پر زندگی گذارنے سے وابستہ ہے اور اگر الہی معیار کے مطابق حکومت اور سماج بھی میسر ہوجائے تو یہ سفر نہایت آسانی سے کٹ سکتا ہے لہذا ایک الہی اور مثالی حکومت کا قیام تمام ہادیان برحق کے تبلیغی سسٹم میں سرفہرست رہی ہے،چونکہ طاغوت کے زیر سایہ،کمال کا یہ سفر طولانی نظر آنے لگتا ہے،واضح سی بات ہے کہ جب ہر طرف مادیات کا غلبہ ہو اور کہیں صبغۃ اللہ نظر نہ آئے تو انسان کے لئے منزل تک پہونچنا دشوار اور سخت بن جاتا ہے لہذا قرآن مجید نے ہمارے سامنے مثالی حکومت کا تصور اس انداز میں پیش کیا ہے:{فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِی بِأَمْرِہٖ رُخَاءً حَیْثُ أصَابَ وَالشَّیَاطِیْنَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْأَصْفَادِ ھٰذَا عَطآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفیٰ وَحُسْنَ مَآبٍ}۔(سورۂ ص، آیت:۳۶ ۔۴۰ )
ترجمہ:توہم نے ہواؤں کو مسخّر کردیا کہ ان ہی کے حکم سے جہاں جانا چاہتے تھے نرم رفتار سے چلتی تھیں اور شیاطین میں سے تمام معماروں اور غوطہ خوروں کو تابع بنادیا اور ان شیاطین کو بھی جو سرکشی کی بنا پر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے۔
خداوندمتعال نے ان آیات میں حضرت سلیمان(ع) پر کی جانے والی عنایات کی طرف اشارہ کیا ہے، منجملہ: ہوا کو ان کے لئے مسخّر(زیرفرمان) کیاجانا، جنّاتی طاقت سے مستفید ہونا تخریب کار طاقتوں کو لگام دینا، اختیار اور قرب الٰہی کا مقام عطا ہونا اور درخشاں انجام۔
یہ نعمتیں مثالی حکومت کا ایک حصّہ ہیں جس کی انہوں نے درخواست کی تھی، جی ہاں ایک مثالی حکومت حسب ذیل امور پر مشتمل ہونا چاہیئے:
الف:تخریب کارطاقتوں سے محفوظ ہو۔{مُقَرَّبِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ}۔
ب:نقل وانتقال اور فوری رابطہ کی مشکل کو حل کرے۔{سَخَّرْنَاہُ لَہٗ الرِّیْحَ}۔
ج:فنکار اورباہنر افراد سے استفادہ کرے۔{ بَنَّاءٍ وَّ غَوَّاصٍ}۔
د:ارادہ پر قادر ہو۔{فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ}۔
ھ:سخی ہو۔{بِغَیْرِ حِسَابٍ}۔
و:معنوی اعتبار سے اس کا مستقبل روشن ہو۔{عِنْدَنَا حُسْنَ مَآبٍ}۔

اخرین اخبار