کد خبر ۵۷۲۹ انتشار : ۱۹ مهر ۱۳۹۶ ساعت ۱۷:۴۷
اسیران کربلا

۱۹ محرم سن ۶۱؛اسیران کربلا کی شام کی طرف روانگی

حضرت امام جعفر صادق(ع) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے تھے:مجھے شام کے راستہ میں ایک لنگڑے اونٹ پر سوار کیا گیا کہ جس کی کمر پر نہ کجاوہ تھا،نہ کوئی چادر اور میرے بابا کا سر ایک بلند نیزے پر ہمارے ہم سے آگے تھا،جب بھی ہم میں سے کوئی خاتون یا بچہ روتا یا فریاد کرتا تھا تو ستمگار نیزہ لیکر آتے اور اس کے سر میں نیزہ کو نوک چبھوتے تھے،یہاں تک کہ ہم اسی حال میں دمشق میں داخل ہوگئے اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔

تاریخ کے مطابق ۱۹ محرم سن ۶۱ ہجری کے روز کہ جب اہل حرم کا قافلہ کوفہ کے قیدخانہ میں تھا،کوفہ کا یزیدی والی عبید اللہ بن زیاد کے پاس یزید بن معاویہ کا قاصد یہ حکم لے کر پہونچا کہ امام حسین(ع) اور دیگر شہداء کے سر اور جو کچھ ان سے مال لوٹا گیا ہے نیز ان کے اہل و عیال کو اس کے پاس روانہ کردیا جائے،لہذا ابن مرجانہ نے یہ پیغام بھیجا اور اس نے یہ حکم بھی دیا کہ امام سجاد علیہ السلام کو طوق و زنجیر سے باندھ دیا جائے۔
یہ حکم سنتے ہی ابن زیاد کے سپاہیوں نے حضرت امام سجاد(ع) کے دونوں ہاتھوں کو پس گردن باندھ دیا اور دوسرے اسیروں کی طرح آپ کو بھی شہدائے کربلا کے سرہائے مطہر کے پیچھے روانہ کردیا گیا۔
حضرت امام جعفر صادق(ع) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے تھے:مجھے شام کے راستہ میں ایک لنگڑے اونٹ پر سوار کیا گیا کہ جس کی کمر پر نہ کجاوہ تھا،نہ کوئی چادر اور میرے بابا کا سر ایک بلند نیزے پر ہمارے ہم سے آگے تھا،جب بھی ہم میں سے کوئی خاتون یا بچہ روتا یا فریاد کرتا تھا تو ستمگار نیزہ لیکر آتے اور اس کے سر میں نیزہ کو نوک چبھوتے تھے،یہاں تک کہ ہم اسی حال میں دمشق میں داخل ہوگئے اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار