کد خبر ۵۶۳۹ انتشار : ۱۱ شهریور ۱۳۹۶ ساعت ۱۸:۳۲
فیملی

شوہر کے ذمہ بیوی کا پہلا فرض

مرد ان تمام شعبوں میں اپنی شریک حیات کی جتنی بھی مدد کرے کم ہے،اگر عورت چاہتی ہے کہ کوئی کام انجام دے اور وہ اپنی خاندانی زندگی کے دائرہ کار اور اس کی حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتماعی کاموں میں حصہ لینے کی خواہشمند ہے تو مرد کو چاہئے کہ اس کی راہ میں مانع نہ ہو۔

شوہر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بیوی کی ضرورتوں اور حاجتوں کو درک کرے، اس کے احساسات اور جذبات کو سمجھے، اس کے حال سے ایک لمحے کے لئے بھی غافل نہ ہو اور گھر میں خود کو تمام اختیارات کا مالک اور مطلق العنان حاکم تصور نہ کرے،میاں بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیے،ایک دوسرے کے معاون و مددگار اور دو دوست ہیں اور (زندگی کے میدان میں اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کرنے کے لئے) ان میں سے ہر ایک کی اپنی خاص فکری اور باطنی وسعت اور دائرہ کار ہے۔
شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی زندگی کے تمام امور میں اس کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے متعلق معاشرے میں موجود تمام پسماندگی، دقیانوسی خیالات اور خاص طرز فکر کا ازالہ کر سکے،البتہ اس پسماندگی سے مراد وہ چیزیں نہیں ہیں کہ جو آج مغرب اور بیگانوں کی تقلید کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ادھوری ہیں،بلکہ ان دقیانوسی خیالات سے مراد خواتین کے مفید وجود کے فوائد کی معرفت، ان کے تعلیم حاصل کرنے جیسے اہم امور اور خواتین میں نئے افکار، ترقی اور غور و فکر جیسی صفات کی پرورش سے متعلق معاشرے کی چھوٹی ذہنیت اور کم ظرفی ہے،لہذا مرد ان تمام شعبوں میں اپنی شریک حیات کی جتنی بھی مدد کرے کم ہے،اگر عورت چاہتی ہے کہ کوئی کام انجام دے اور وہ اپنی خاندانی زندگی کے دائرہ کار اور اس کی حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتماعی کاموں میں حصہ لینے کی خواہشمند ہے تو مرد کو چاہئے کہ اس کی راہ میں مانع نہ ہو۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار