کد خبر ۵۶۰۳ انتشار : ۱ شهریور ۱۳۹۶ ساعت ۱۹:۰۰
رہبر انقلاب

آزاد گفتگو،ہمارے لئے امام محمد تقی (ع) کا ورثہ ہے:

آپ وہ پہلے امام تھے کہ جنہوں ںے آزاد گفتگو کی بنیاد رکھی تھی۔ آپ نے مامون عباسی کے دربار میں مختلف مکاتب فکرکےعلماء اوردانشوروں سے دقیق ترین مسائل پرگفتگو فرمائی تھی اور اپنی فضیلت اور حقانیت کو ثابت کیا تھا،آزاد گفتگو،ہمارے لیے ایک اسلامی ورثہ ہے،ائمہ اطہارعلیہم السلام کے دورمیں بھی آزاد گفتگو رائج تھی اورامام جواد علیہ السلام کے دورمیں یہ سلسلہ انتہائی اچھے اندازمیں سامنے آیا تھا۔

دیگرائمہ معصومین علیہم السلام کی طرح امام جواد علیہ السلام بھی ہمارے لیے نمونہ عمل اور ہمارے پیشوا ہیں،آپ کی مختصرزندگی، کفرو طاغوتوں کے ساتھ جہاد میں گزری تھی،نوجوانی میں ہی امت مسلمہ کی قیادت پرمنصوب ہوگئے تھے اور چند سالوں میں ہی اللہ کے دشمن کےساتھ اس قدر جہاد کیا کہ اللہ کے دشمن آپ کے وجودمبارک کو برداشت نہ کرسکے اوراس طرح پچیس سال کی عمرمیں زہرسے شہید کردیے گئے۔
جس طرح ہمارے دیگر ائمہ اطہارعلیہم السلام نے اپنےجہاد کے ذریعےاسلام کی تاریخ کو چارچاند لگائے ہیں اسی طرح امام جواد علیہ السلام نے بھی جہاد کے ایک اہم حصے کو پیش کیا تھا اورہمیں ایک عظیم درس دیا تھا اور وہ عظیم درس یہ ہےکہ جب ہم منافق اور ریاکار طاقتوں کے سامنے کھڑے ہوں تو ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور ان طاقتوں کےمقابلے میں لوگوں کے اندربصیرت پیدا کرتے رہیں،اگردشمن واضح طورپردشمنی کرے اور ریاکاری سے کام نہ لے تو اس کا کام آسان ہے لیکن جب مامون عباسی جیسا دشمن،مقدس بنے اور اسلام کے لبادے میں اپنے چہرے کو چھپالے تو لوگوں کے لئے اسے پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہمارے دور اور تاریخ کے تمام ادوار میں طاقتور افراد نے ہمیشہ کوشش کی ہےکہ جب وہ لوگوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو پھر ریاکاری اورمنافقت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں،امام رضا علیہ السلام اورامام جواد علیہ السلام نے مامون کے چہرے سے ریاکاری اور دھوکے و فریب کے اس لباس کواتارنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
امام محمد تقی علیہ السلام استقامت اورپائیداری کی علامت ہیں۔ آپ ایک عظیم انسان ہیں کہ جنہوں نے اپنی مختصرسی زندگی میں مامون عباسی کی ریاکار اوردھوکے بازحکومت کا مقابلہ کیا تھا،آپ نے تمام مشکل حالات کو برداشت کیا اورتمام ممکنہ طریقوں سےجدوجہد کی تھی۔،آپ وہ پہلے امام تھے کہ جنہوں ںے آزاد گفتگو کی بنیاد رکھی تھی۔ آپ نے مامون عباسی کے دربار میں مختلف مکاتب فکرکےعلماء اوردانشوروں سے دقیق ترین مسائل پرگفتگو فرمائی تھی اور اپنی فضیلت اور حقانیت کو ثابت کیا تھا،آزاد گفتگو،ہمارے لیے ایک اسلامی ورثہ ہے،ائمہ اطہارعلیہم السلام کے دورمیں بھی آزاد گفتگو رائج تھی اورامام جواد علیہ السلام کے دورمیں یہ سلسلہ انتہائی اچھے اندازمیں سامنے آیا تھا۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار