کد خبر ۵۵۸۳ انتشار : ۲۶ مرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۹:۱۰
ائمہ اہل بیت(ع)

امام (ع) کی افضلیت پر دلیل

ائمہ اہل بیت(ع) اور ان کی معاصر شخصیتوں اور دانشوروں کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ ائمہ معصومین(ع)علم وعمل میں اپنے عہد کی تمام شخصیات سے برتر وافضل تھے کوئی سوال ایسا نہیں ہے جس کا جواب ائمہ ہدیٰ نے نہ دیا ہو جب کہ انہوں نے کسی سے علم ومعرفت حاصل نہیں کیا۔

عقلی اعتبار سے مفضول کو فاضل یا فاضل کو افضل پر ترجیح دینا قبیح ہے اور خدا ہر قبیح فعل سے منزہ ہے اسی وجہ سے اس سلسلہ میں شریعت اور عقل کا حکم ہماہنگ اور موافق ہے،اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ علم،سیاست،زہد و تقویٰ اور وہ دیگرصفات جو امامت کے اعلیٰ دو مقدس ہدف کے محقق ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں امام کو ان صفات میں دیگر افراد سے افضل ہونا چاہئے،امام رضا(ع) کی روایات میں:«لا یدانیه ذوحسب» اسی افضلیت کو بیان کرتا ہے ۔آپ(ع) دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:«الامام واحد دھرہ لا یدانیه احد ولا یعادله عالم ولایوجد منه بدل ولا له مثل ولا نظیر مخصوص بالفضل کله من غیر طلب منه ولا اکتساب»۔(۱)
اہل سنت کے بعض متکلمین بھی امام کے لئے افضلیت کی شرط تسلیم کرتے ہیں البتہ صرف ا س صورت میں کہ جب کوئی مانع یا برتر مصلحت نہ پائی جا رہی ہو،قاضی ابو بکر باقلانی (متوفی  ۴۰۳ہجری )نے یہی قول اختیار کیا ہے،انہوں نے اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ جن میں امام کے افضل ہونے کی شرط بیان ہوئی ہے،قاضی باقلانی کا عقیدہ ہے کہ ان روایات کا تواتر معنوی ثابت ہے،دوسری جانب مسلمان متفق ہیں کہ امامت (اسلامی معاشرہ کی امامت وقیادت) سب سے بڑی امامت ہے لہٰذا اگر امام جماعت کے لئے افضلیت مطلوب اور ضروری ہے تو اسلامی معاشرہ کے امام وقائد میں بطریق اولیٰ مطلوب ہوگی۔(۲)
جن روایات سے قاضی ابوبکر باقلانی نے استدلال کیا ہے ان میں سے ایک روایت یہ ہے:«من تقدم علیٰ قدم من المسلمین یری ان فیھم من ھو افضل منه فقد فان اللّٰه ورسوله والمسلمین»۔(۳)
خواجہ نصیر الدین طوسی افضلیت کی شرط کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:«وقبح تقدیم المفضول معلوم ولا ترجیح مع التساوی» مفضول کو فاضل پر ترجیح کی قباحت کے سلسلہ میں تو کوئی تردید ہی نہیں ہے اگر تمام افراد فضل وکمال کے کے اعتبار سے اس طرح مساوی ہوں کہ کسی ایک کا امام کے عنوان سے انتخاب ترجیح بلا مرجح کا سبب ہو رہا ہو تو یہ بھی قبیح ہے،لہٰذا فضائل و کمالات کے اعتبار سے امام کو دوسروں سے افضل ہونا چاہئے۔
یہ توامامت عامہ کے باب میں افضلیت سے مربوط امور تھے جہاں تک امامت خاصہ میں افضلیت کا تعلق ہے یعنی اہلبیت(ع) اپنے زمانہ میں دوسروں سے افضل تھے تو گذشتہ فصلوں میں ہم دیگر صحابہ اور خلفاء پر حضرت علی(ع)کی افضلیت کے سلسلہ میں دلائل پیش کر چکے ہیں دیگر ائمہ کے بارے میں بھی یہ بات تاریخ کے مسلمات میں سے ہے کہ انہوں نے کسی سے علم حاصل نہیں کیا ہاں دوسروں نے ضرور ائمہ سے علم حاصل کیا ہے یہاں تک کہ ابو حنیفہ جن کا لقب «امام اعظم» ہے فرماتے ہیں:«لولا السنتان لھلک النعمان»۔(۴)دوسال سے مراد وہ دو سال ہیں جب ابو حنیفہ نے مدینہ میں امام جعفر صادق(ع)کے سامنے حاضر ہو کر زانوئے ادب تہ کیا اور آپ سے کسب فیض کیا دوسرے مقام پر ابو حنیفہ فرماتے ہیں:«ما رایت افقه من جفعر بن محمد»۔(۵) 
ائمہ اہل بیت(ع) اور ان کی معاصر شخصیتوں اور دانشوروں کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ ائمہ معصومین(ع)علم وعمل میں اپنے عہد کی تمام شخصیات سے برتر وافضل تھے کوئی سوال ایسا نہیں ہے جس کا جواب ائمہ ہدیٰ نے نہ دیا ہو جب کہ انہوں نے کسی سے علم ومعرفت حاصل نہیں کیا،شیخ صدوق علیہ الرحمۃ اس چیز کو امامت کی واضح ترین دلیل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:کسی سے علم حاصل کئے بغیرکسی امام کے سامنے کوئی ایساسوال نہیں آیا جس کاجواب دینے سے وہ عاجز ہو گئے ہوں ائمہ معصومین(ع)اپنے دور کے تمام علوم وفنون میں دوسروں سے برتر اور مشہور زمانہ تھے اس سے بڑھ کر امامت کی دلیل اور کیا ہوگی۔(۶)
......................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔اصول کافی،ج/۱،کتاب الحجۃ،باب جامع فی فضل الامام وصفاتہ،ص /۱۵۶۔
۲۔تمہید الاوائل، ص/۴۷۳تا ۴۷۵ ملاحظہ فرمائیں۔
۳۔تمہید الاوائل، ص/۴۷۴ص۔
۴۔الامام الصادق والمذاہب الاربعۃ، ج/۱،ص/۵۸۔
۵۔الامام الصادق والمذاہب الاربعۃ، ج/۱،ص/۵۳۔
۶۔کمال الدین وتمام النعمۃ،  ص/۹۱ ۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار