کد خبر ۵۵۸۱ انتشار : ۲۶ مرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۹:۰۰
فدک

ابوبکر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فدک کیوں چھینا ؟

ولایت مولا علی علیہ السلام کی تبلیغ کے لئے مالی رصد کو توڑنے کے لئے ، فدک کو چھینا گیا، فدک کا مسئلہ در اصل ولایت کا مسئلہ ہے ۔

بعض علما اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :کیونکہ فدک کی آمدی بہت زیادہ تھی  چنانچہ تاریخ کے ماہرین فدک کی آمدنی   کو۲۴ ہزار سے ۷۰ ہزار دینار تک تخمینہ لگاتے ہیں ، 
بحارالانوار، مجلسى، ج‏29، ص‏123 ، شرح نهج البلاغه، ابن ابى الحدید، ج‏16، ص‏236
جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فدک کے باغات اقتصادی لحاظ سے کس قدر اہمیت کے حامل تھے ؛  لہذا حکومت کو ڈر تھا کہ یہ سرمایہ مولا علی علیہ السلام کی ولایت کی تبلیغ اور تثبیت کے لئے خرچ ہو سکتا ہے ؛ اس لئے مالی رصد کو توڑ کر امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کی تبلیغ کے امکان کو ختم کردیا ؛ کیونکہ حکومت کو معلوم تھا کہ ولایت کی تثبیت کے لئے فدک کی  برکحال ضرورت ہے اور فدک کے بغیر یہ عمل ضرور متاثر ہوگا ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح بی بی فاطمہ کے نزدیک بھی فدک کا مسئلہ در اصل ولایت کا مسئلہ تھا اسی طرح حکومت کے لئے بھی اصل مسئلہ فدک کا نہیں تھا، بلکہ حضرت علیعلیہ السلامکی ولایت کا تھا ۔چنانچہ اسی حقیقت کی طرف  اہل سنت کے مشہور عالم دین ابن ابی الحدید اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد بغداد کے مشہور و معروف مدرس علی بن الفار سے دریافت کیا کہ آیا جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا فدک کے مطالبہ میں صادق تھیں ؟
انہوں نے کہا : بے شک صادق تھیں
میں نے کہا : تو کیا خلیفہ بھی جانتے تھے کہ وہ صادق ہیں
انہوں نے کہا : ہاں جانتے تو تھے 
میں نے کہا : تو خلیفہ نے بی بی سلام اللہ علیہا کو ان کا مسلمہ حق دے کیوں نہیں دیا 
انہوں نے کہا : اگر فدک دے دیتے تو کل بی بی سلام اللہ علیہا علی علیہ السلام  کی خلافت کا مطالبہ کرتیں  ؛ یا فدک کو علی علیہ السلام  کی خلافت کی ترویج و تحکیم کے لئے مصرف کرتیں ؛ اصل مسئلہ خلافت کا تھا فدک  کے باغات اور کھجور کے چند درختوں کا نہیں ۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار