کد خبر ۵۵۶۵ انتشار : ۲۴ مرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۷:۴۵
نماز

مؤمن کی نماز کا ثواب

خداوند عالم نے ان فرشتوں سے فرمایا:جب تک وہ بیماری کے بستر پر ہے اس کے لیے وہی ثواب لکھو جواس کے لیے اس وقت لکھتے تھے جب وہ صحت کے عالم میں اپنی عبادتگاہ میں نمازیں پڑھتا تھا اور مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کے نیک اعمال کا ثواب اس وقت تک لکھتا رہوں جب تک وہ بیماری کے بستر پر ہے۔

ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ مسکراتے ہوئے آسمان کی طرف نگاہ کر رہے تھے تو  ایک آدمی نے اس کی وجہ پوچھی۔ 
آنحضرت نے جواب میں فرمایا:میں نے آسمان کی طرف نگاہ کی، دیکھا کہ دو فرشتے زمین کی طرف آ رہے ہیں، تاکہ ایک اللہ کے مؤمن بندے کی دن و رات کی نمازوں اور عبادتوں کو لکھیں،لیکن اس کو نماز کی جگہ نہیں پایا، بلکہ اسے بیماری کے بستر پر پایا۔
وہ آسمان کی طرف واپس چلے گئے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا:ہم معمول کے مطابق اس بندہ مؤمن کی عبادتگاہ میں اس کی عبادتوں کا ثواب لکھنے گئے لیکن اسے وہاں نہیں پایا بلکہ وہ بستر بیماری پر آرام کر رہا تھا۔ 
خداوند عالم نے ان فرشتوں سے فرمایا:جب تک وہ بیماری کے بستر پر ہے اس کے لیے وہی ثواب لکھو جواس کے لیے اس وقت لکھتے تھے جب وہ صحت کے عالم میں اپنی عبادتگاہ میں نمازیں پڑھتا تھا اور مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کے نیک اعمال کا ثواب اس وقت تک لکھتا رہوں جب تک وہ بیماری کے بستر پر ہے۔( فروع کافی، ج۱، ص۳۱)

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار