کد خبر ۵۵۴۷ انتشار : ۲۱ مرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۷:۵۵
نہج البلاغہ کا ایک سبق:

نہج البلاغہ اور مسئلہ حکومت(2)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:حکومت ہی کے زیرسایہ مؤمن عمل خیر کرتا ہے اور کافر مادی ودنیوی فائدہ کے لئے مرمٹتا ہے اور اس طرح دنیا چلتی رہتی ہے، حکومت ہی کے ذریعہ ٹیکس کی وصولی،دشمنوں سے دفاع ،راستوں میں امن اور کمزور قوی سے اپنا حق پاتا رہتا ہے،اس حکومت کی مدد سے کمزوروں کو سرکش ومستکبر افراد سے اور باہمی اختلاف اور بے قید و بند کی زندگی سے انسان کو روکے رکھتی ہے، حق دلواتی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں اچھے لوگ راحت وآرام کے ساتھ زندگی بھی بسر کرتے ہیں اور فاسق وفاجر کے شر سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔

قارئین کرام! ہم نے نہج البلاغہ سے آشنائی کے لئے جس سلسلہ کا آغاز کیا اس میں حکومت ایک ایسا موضوع ہے جس میں امیرالمؤمنین(ع) نے خاطر خواہ توجہ دلائی ہے چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی ایک مؤمن کے سامنے ہوتی ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے آغوش پیغمبر(ص) میں پرورش پائی ہے بلکہ پیغمبر(ص) نے بچپنے ہی سے حضرت(ع) کو اپنے گھر میں رکھا، پروان چڑھایا مخصوص تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا ، اسلام کے رموز واسرار ودیعت فرمائے اور اصول وفروع کو رگ وپے میں لہو بناکر دوڑایا ہے،لہذا گذشتہ کالم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
نہج البلاغہ اور مسئلہ حکومت(1)
گذشتہ سے پیوستہ:سب سے پہلے اس مسئلہ میں بحث ہونی چاہیئےکہ نہج البلاغہ میں ایسے مسائل(حکومت وغیرہ) کی کیا قدر و قیمت ہے،بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہے کہ حکومت و عدالت کے مسائل کو اسلام میں کیا اہمیت حاصل ہے،تفصیلی بحث کی ان مقالات میں گنجائش نہیں ہے اگرچہ اس کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے۔
قرآن کریم نے جب پیغمبر اسلام(ص) کو حکم دیا کہ اپنے بعد علی علیہ السلام کی خلافت و ولایت کا لوگوں میں اعلان کریں تو آیت کا تیور یہ تھا:«یَآ اَیُّھَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ»۔(۱)
ترجمہ:ائے رسول! وہ پیغام جو آپ کو دیا جاچکا ہے پہنچادیجئے اگر آپ نے یہ پیغام نہیں پہنچایا تو گویا کار رسالت انجام نہ دیا۔
اسلام میں کس موضوع کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی ہے جتنی اہمیت اس موضوع کو دی گئی ہے،کون سا ایسا پیغام ہے کہ جس کے نہ پہنچانے کو رسالت کے نہ پہنچانے کے برابر قرار دیا گیا ہے؟
جب جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور پیغمبر اسلام (ص) کے شہید یا قتل ہونے کی خبر پہنچی تو کچھ لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے،قرآن نے اس کو اس طرح بیان کیا ہے:«وَمَامُحَمَّدٌ اِلَّارَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهٖ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ؟»۔(۲)
ترجمہ:محمد تو صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں،اگر محمد اپنی موت سے مرجائیں یا مارڈالے جائیں تو کیا تم الٹے پائوں کفر کی طرف پلٹ جائوگے؟!
استاد بزرگوار علامہ طباطبائی رضوان اللہ علیہ نے«ولایت وحکومت»کے عنوان سے جو مقالہ لکھا ہے،اس میں قرآن کی اس آیت سے یوں استدلال کیا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص)کے مرنے سے جنگ میں کوئی خلل نہ پیدا ہونا چاہیئے،بلکہ تم لوگ فوراً پیغمبر(ص) کے بعد اس شخص کے پرچم کے نیچے رہ کر جو تمہارا سربراہ ہے اپنے کام کو انجام دو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ بالفرض اگر پیغمبر(ص) مارے بھی جائیں یا مرجائیں تو مسلمانوں کے جنگی واجتماعی نظام میں خلل نہیں پرنا چاہیئے؟
جیسا کہ پیغمبر(ص) کی حدیث ہے کہ اگر تین آدمی ہم سفر ہوں تو ان میں سے کسی ایک کو اپنا رئیس یا امیر بنا لو،اسی بناء پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پیغمبر(ص) کی نظر میں ایسے حاکم کا کھودینا شدید خسارہ ہے جو معاشرہ کے آپسی اختلافات کو دور کرنے والا اور ایک دوسرے میں اتحاد و اتفاق کو رواج دینے والا ہو۔
نہج البلاغہ میں حکومت اور عدالت کے سلسلہ میں جو مسائل بیان کئے گئے ہیں ان کی تعداد بہت ہے لیکن ہم انشاء اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بیان کریں گے۔
سب سے پہلا مسئلہ حکومت کی حیثیت اور اس کی ضرورت ہے حضرت علی(ع)نے بار بار صاف لفظوں میں حکومت کی ضرورت وحیثیت کو بیان فرمایا ہے اور اس طرح آپ(ع) نے خوارج کے نظریہ کی تردید کی جن کا ابتداء میں یہ نظریہ تھا کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہے حق حکومت صرف اور صرف خدا کو زیبا ہے اگر چہ«لاحکم الا لِلّٰه »کا نعرہ خوارج نے قرآن ہی سے اقتباس کیا تھا ،جس کے خلاف (نظریاتی ) جنگ کی ہے،خوارج کا نعرہ یہ تھا کہ«لاَحُکْمَ اِلَّالِلّٰه»حکومت صرف خدا کے لئے ہے اس نعرہ کو قرآن مجید سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ قانون سازی صرف خدا اور ان افراد کا حق ہے جن کو اللہ نے اجازت دی ہے،لیکن خوارج اس جملہ سے غلط فائدہ اٹھانا چاہتے تھے ،جیساکہ امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خوارج اس کلمۂ حق سے غلط وباطل معنی مراد لے رہے تھے ان کا کہنا یہ تھا کہ بشر کو حکومت کا حق حاصل نہیں ہے حکومت کا حق توصرف خدا کو ہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:میں بھی«لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ»یعنی قانون بنانے کا اختیار صرف خدا ہی کو ہے کا قائل ہوں لیکن حکومت و رہبری بھی خدا ہی کے لئے ہے یہ معقول نہیں ہے کیونکہ خدا کا قانون انسان ہی کے ذریعہ اجرا ہونا چاہیے،حکومت کے بغیر انسان کو مفر نہیں خواہ حاکم اچھا ہو یا برا۔(۳) حکومت ہی کے زیرسایہ مؤمن عمل خیر کرتا ہے اور کافر مادی ودنیوی فائدہ کے لئے مرمٹتا ہے اور اس طرح دنیا چلتی رہتی ہے، حکومت ہی کے ذریعہ ٹیکس کی وصولی،دشمنوں سے دفاع ،راستوں میں امن اور کمزور قوی سے اپنا حق پاتا رہتا ہے،اس حکومت کی مدد سے کمزوروں کو سرکش ومستکبر افراد سے اور باہمی اختلاف اور بے قید و بند کی زندگی سے انسان کو روکے رکھتی ہے، حق دلواتی رہتی ہے جس کے نتیجہ میں اچھے لوگ راحت وآرام کے ساتھ زندگی بھی بسر کرتے ہیں اور فاسق وفاجر کے شر سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ مائدہ :۶۶۔
۲۔سورۂ آل عمران:۱۴۴۔
۳۔یعنی بالفرض اگر حکومت حقہ برقرار نہ ہوسکے تو ایسی صورت میں ناصالح افراد ہی کی حکومت غنیمت ہے کہ وہ بہر حال نظم وضبط کے ذریعہ کم از کم اجتماعی نظام کو برقرار رکھتی ہے۔
۴۔نہج البلاغہ،خطبہ:۴۰۔

اخرین اخبار