کد خبر ۵۵۴۵ انتشار : ۲۱ مرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۷:۴۹
نہج البلاغہ کا ایک سبق:

نہج البلاغہ اور مسئلہ حکومت(1)

جو شخص اسلامی تعلیمات سے آشنا ہے کوئی تعجب نہیں ہوتا چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی اس کے سامنے ہوتی ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے آغوش پیغمبر(ص) میں پرورش پائی ہے بلکہ پیغمبر(ص) نے بچپنے ہی سے حضرت(ع) کو اپنے گھر میں رکھا، پروان چڑھایا مخصوص تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا ، اسلام کے رموز واسرار ودیعت فرمائے اور اصول وفروع کو رگ وپے میں لہو بناکر دوڑایا ہے۔

نہج البلاغہ میں جن موضوعات پر سیر حاصل بحث ہوئی ہے ان میں «حکومت و عدالت»ایک اہم موضوع ہے،جس شخص نے پوری نہج البلاغہ کا مطالعہ کیا ہوگا ،اس نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ حضرت علی(ع)نے حکومت وعدالت کے موضوع پر بہت زیادہ روشنی ڈالی ہے اور اس کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا ہے یقیناً وہ افراد جو اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان ومذاہب کی تعلیمات سے آشنائی رکھتے ہیں،ان کے لئے یہ بات قابل تعجب ہے کہ ایک دین کا پیشوا حکومت وعدالت کے موضوع میں کیوں اس طرح منہمک ہے؟ کیا یہ وہ مسائل نہیں کہ جن کا تعلق دنیا اور دنیاوی زندگی سے ہے؟ اور ایک دینی رہبر کا دنیوی زندگی اور اجتماعی مسائل سے کوئی ربط نہیں ہوا کرتا۔
لیکن جو شخص اسلامی تعلیمات سے آشنا ہے کوئی تعجب نہیں ہوتا چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی اس کے سامنے ہوتی ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے آغوش پیغمبر(ص) میں پرورش پائی ہے بلکہ پیغمبر(ص) نے بچپنے ہی سے حضرت(ع) کو اپنے گھر میں رکھا، پروان چڑھایا مخصوص تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا ، اسلام کے رموز واسرار ودیعت فرمائے اور اصول وفروع کو رگ وپے میں لہو بناکر دوڑایا ہے۔
ایسے شخص کے لئے اگر حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے حکومت وعدالت جیسے موضوعات پر کچھ ارشاد نہ فرمایا ہوتا تو یہ قابل تعجب ہوتا چونکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ:لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَابِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَامَعَھُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسَ بِالْقِسْطِ۔
ترجمہ:ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں اور کتاب و میزان کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ لوگوں کے درمیان عدالت قائم کریں۔
اس آیۂ کریمہ میں تمام انبیاء(ع) کی بعثت کا مقصد «قیام عدالت»کو قرار دیا گیا ہے،عدالت اتنا مقدس سرمایہ ہے کہ تمام انبیاء (ع) اسی کو فروغ دینے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں،ان تمام باتوں کے باوجود کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جیسا انسان جو قرآن کا مفسر اور اسلام کے اصول وفروع کی توضیح وتشریح کرنے والا ہو وہ اس مسئلہ میں خاموش رہے اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کردے۔
جو لوگ اپنی تعلیمات میں حکومت وحکمرانی جیسے مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں یا یہ خیال کرتے ہیں کہ دین اسلام میں ایسے مسائل کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے بلکہ دین فقط طہارت اور نجاست کامجموعہ ہے ایسے افراد کو اپنے عقائد و افکار میں نظر ثانی کرنا چاہیئے۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار