کد خبر ۵۴۱ انتشار : ۳۰ اردیبهشت ۱۳۹۵ ساعت ۰۶:۳۵
عراق

عراق؛ الحشد الشعبی کے علماء کی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل سے ملاقات

آقائے اختری نے کہا: اس وقت اہل تشیع انتہائی سخت دور سے گذر رہے ہیں پوری دنیا میں مکتب تشیع پر ہر طرح کی یلغار کی جا رہی ہے عالمی استعماری طاقتیں اور عربی ضمیر فروش ممالک سب مل کر تکفیری ٹولیوں القاعدہ اور داعش کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں تا کہ اسلام ناب کا مقابلہ کریں آج پوری دنیا صرف شیعہ نسل کشی پر جھٹی ہوئی ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں اہل تشیع انتہائی سخت حالات سے گذر رہے ہیں تمام استعماری طاقتیں تکفیری گروہوں کے ذریعے پوری دنیا میں شیعہ نسل کشی میں سرگرم عمل ہیں ایسے دور میں شیعوں کو شیعوں کو ہوشیار ہو کر جینے کی ضرورت ہے۔

یہ بات انہوں نے عراق کی رضاکار فورس الحشد الشعبی میں سرگرم علماء کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
اس ملاقات میں عراقی علماء کی تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام سید محمد الحیدری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہم فخر کرتے ہیں کہ ہمیں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سربراہ جو پوری دنیا میں اسلام اور تشیع کی ترویج کی راہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ 
انہوں نے اپنی تنظیم کے اراکین کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: عراق کے علماء کی یہ تنظیم ولایت فقیہ کی پیروکار ہے کہ جو عوامی رضاکار فورس ’’الحشد الشعبی‘‘ میں علمی اور ثقافتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔
الحیدری نے مزید بتایا کہ ولایت فقیہ کے پیروکاروں کی یہ تنظیم جو چند سال قبل عراق میں تاسیس کی گئی اس کے توسط عراق کے پانچ صوبوں میں امام خمینی(رہ) کے نام پر اسکول اور دینی مدارس قائم کئے گئے، دینی مبلغین کے لیے تعلیمی کورس رکھے گئے، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا اور نیز ایام اربعین میں زائرین کے لیے بھی بہت سارے خصوصی پروگرام رکھے جاتے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے بھی اس ملاقات سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: عراق کے علماء نے مکتب تشیع کی نشر و اشاعت میں اہم رول ادا کیا ہے لیکن موجودہ دور میں پوری دنیا کے اندر تشیع کے لیے بہت سخت حالات پائے جاتے ہیں تشیع کے خلاف ہونے والی تمام تر سازشوں کے باوجود مکتب تشیع میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس وقت دنیا کے ۱۳۰ ممالک میں اپنے نمائندے رکھتی ہے اور دنیا میں چہار ہزار سے زیادہ دینی و ثقافتی مراکز کی حمایت کر رہی ہے یہ سب انقلاب اسلامی کی کامیابی کی برکتوں اور امام خمینی(رہ) اور رہبر انقلاب کی رہنمائیوں کی بدولت ہوا ہے۔
انہوں نے دنیا میں عراقی علماء کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: صدام ملعون کے دور میں بہت سارے عراقی علماء دوسرے ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے انہوں نے مکتب تشیع کو دنیا میں پھیلایا اور حال حاضر میں بھی عراقی علماء کئی ٹی وی چینلوں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلام کا پیغام دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس وقت اہل تشیع انتہائی سخت دور سے گذر رہے ہیں پوری دنیا میں مکتب تشیع پر ہر طرح کی یلغار کی جا رہی ہے عالمی استعماری طاقتیں اور عربی ضمیر فروش ممالک سب مل کر تکفیری ٹولیوں القاعدہ اور داعش کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں تا کہ اسلام ناب کا مقابلہ کریں آج پوری دنیا صرف شیعہ نسل کشی پر جھٹی ہوئی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اپنی گفتگو کے آخر میں تکفیری ٹولیوں کے ساتھ مقابلہ کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا: ان تکفیری ٹولیوں کا ہر طرح سے دینی، ثقافتی، سیاسی اور میدانی مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اس راہ میں کوتاہی اور سستی کرنے کا بڑا نقصان ہو گا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اس راہ میں آپ کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
حجۃ الاسلام سید محمد الحیدری نے آخر میں کہا: ولائی علماء کی یہ تنظیم عراق میں مکتب اہل بیت(ع) کی ترویج میں کوشاں ہے اور عراق میں ان کی ثقافتی سرگرمیاں امام خامنہ ای کے نزدیک مصدقہ ہیں۔ اس وقت امام خمینی (رہ) کی کتابیں عراق کے تمام کتب خانوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ولایت کے سپاہی ہیں اور اس راہ میں خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار