کد خبر ۵۳۹۰ انتشار : ۱۶ خرداد ۱۳۹۶ ساعت ۱۲:۲۹
علما

مولانا سید محمد سیادت امروہوی صاحب

حد حفظ یہ ہے کہ مرض الموت کا عالم تھا حکیم نثار علی سے گفتگو میں شرح اسباب کے کئی صفحات ازبر سنا کر کہا ۳۲ سال ہوئے کہ یہ پرھا تھا ، قانع و صابر پڑھانے کے شوقین تھے.

شمس العلوم ،بدر الفنون فاضل اجل جناب مولانا محمد سیادت بن مولانا محمد عبادت صاحب امروہی محلہ شفاعت پوتہ میں سن ۱۲۱۱ ہجری میں پیدا ہوئے وطن میں اپنے والد اور دوسرے اساتذہ سے ابتدائی کتابنیں پڑھ کر لکھنؤ گئے اور فقہ و اصول ،منطق و فلسفہ ،تفسیر و حدیث عقائد و ادب طب وغیرہ کی تحصیل و تکمیل کے بعد جناب علیین مکان مولانا سید حسین سے اجازہ لے کر وطن آئے اور خدمت دین کا سلسلہ شروع کیا آپ غضب کا حافظہ رکھتے  تھے، حد حفظ یہ ہے کہ مرض الموت کا عالم تھا حکیم نثار علی سے گفتگو میں شرح اسباب کے کئی صفحات ازبر سنا کر کہا ۳۲ سال ہوئے کہ یہ پرھا تھا ، قانع و صابر پڑھانے کے شوقین تھے، اشرف المساجد کی تجدید و تعمیر میں حصہ لیا دائم المرض  تھے مگر فرائض پابندی سے ادا کرتے تھے۔
سن ۱۲۲۵ ہجری میں رحلت کی اور مسجد جامع کی جنوبی دیوار کے نیچے دفن ہوئے۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار