کد خبر ۵۰۵۹ انتشار : ۱۱ بهمن ۱۳۹۵ ساعت ۱۹:۵۶
سوال اور جواب

کیا اتحاد و تبرا ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں؟

نام لینا اور تطبیق کرنا ضروریات میں سے نہیں ہے ؛خاص کر تبراء کا تعلق تو اعتقاد اور دل سے ہے ،یہ بدنی اور جوارحی جیسے زبان وغیرہ کا عمل نہیں ہے ،تبراء قلبی عمل ہے ۔

عراق کے ایک جلیل القدر عالم جناب آيت اللہ شیخ حسین الراضی نے اس سوال کے جواب میں کہ شیعہ کس طرح اتحاد یا تقریب اور مسلکی رواداری پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں جبکہ شیعہ عقائد کے رو سے تبراء فروع دین میں شامل ہے کے جواب میں ایک مراسلہ تحریر کیا ہے جو حسب ذیل ہے

۔ وہ لکھتے کہ : بعض لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ ایک طرف تو تبراء شیعیت میں فروع دین میں سے ہے اور دوسری جانب وہ یہ کہتے ہیں کہ سب و لعن نہ کریں یعنی تبراء کرنا ترک کر دیں ، جب کہ روایت یہ کہتی ہے کہ تولا اور تبراء ایک ساتھ ہیں ۔

ہمارا جواب یہ ہے کہ ہمارا یہ کام بھی روایات کی روشنی میں ہے ۔ وہ روایات جن میں یہ آیا ہے کہ ان کے ساتھ حسن معاشرت رکھیں ان کے بیماروں کی عیادت کریں اور ان کے جنازوں کی تشییع میں شرکت کریں ۔ اس طرح کی روایات دسیوں کی تعداد میں ہیں ۔ میں مبالغہ نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر کوئی تلاش کرے  تو سینکڑوں روایات مل جائیں گی ۔

وہ خط جو امام  جعفر صادق علیہ السلام نے شیعوں کے نام لکھا ہے جو روضہء کافی نام کی کتاب کے شروع میں آیا ہے اور شیعہ اس کو اپنی مسجدوں میں رکھتے تھے اور نماز کے بعد اس کو پڑھتے تھے ۔اس خط میں سب و لعن نہ کرنے کے بارے میں کچھ مسائل تھے اور کچھ ان امور کا اظہار نہ کرنے کے بارے میں کہ جن کو فریق مخالف پسند نہیں کرتا ۔

دسیوں روایتیں ہیں جن میں مذمت کی گئی ہے  اور فرمایا ہے کہ صرف وہی چیزیں بیان کریں کہ جن کو وہ پہچانتے اور سمجھتے ہیں اور وہ چیزیں نہ کہیں کہ جن کو وہ ناپسند کرتے ہیں اور نہیں مانتے اور جو ان کو بری  لگتی ہیں ۔ چونکہ اس کام سے خدا کا جھٹلایا جانا لازم آتا ہےاور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کچھ دوسری چیزوں کی تکذیب لازم آتی ہے ۔

 ہم نے ان روایات کو صحیح بخاری سے نقل کیا ہے اور نہ صحیح مسلم سے بلکہ یہ روایات ہماری کتابوں سے نقل ہوئی ہیں ، کافی سے اور شیخ صدوق کی کتابوں سے ،اب ہم کیسے ان روایات کو چھوڑ کر لعن و سب کے بارے میں جو ایک یا دو روایتیں ہیں ان سے چپک جائیں ؟ یہ تھی پہلی دلیل ۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ چیز باعث نہیں بنتی کہ ہم غلط کاموں سے بیزاری اور برائت کا اعتراف نہ کریں ،اعمال سے برائت کرنے اور اشخاص سے برائت کرنے میں فرق ہے ،تبراء کی اصلی حالت اعمال سے برائت کرنا ہے ۔ کام اور رفتار اگر درست نہ ہو تو ہم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔تبراء کی حالت دوسرے مذاہب و مسالک میں بھی موجود ہے ۔تولا بھی ہے اور تبراء بھی ۔ کس نے کہا ہے کہ ہم ان کاموں سے اظہار بیزاری نہیں کرتے کہ جنہیں خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام پسند نہیں کرتے ۔ ہم کھل کر اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم امیر المومنین علی علیہ السلام اور ان کے اہل بیت  سے تعلق رکھتے ہیں ۔اور یہ کہ ہم ان کے دوستدار ہیں  اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں اور یہ بات کھل کر کہتے ہیں ۔ اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں علی ابن ابیطالب یا اہل بیت علیہم السلام سے متنفر ہوں اور ان کو دشمن سمجھتا ہوں، ناصبیوں کو چھوڑ کر کہ جو اہل بیت علیھم السلام سے دشمنی رکھتے ہیں اور اس کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ان کو نہیں مانتا ۔ فضائل اہل بیت میں جو کتابیں اہل سنت نے لکھی ہیں وہ شیعوں سے زیادہ ہیں ۔میں نے چند ماہ پہلے ان کتابوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بات کی تھی کہ جو علمائے اہل سنت نے حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کے بارے میں لکھی ہیں ،کہ ان میں سے زیادہ تر کتابیں حضرت کے فضائل اور ان کی محبت کے بارے میں لکھی گئی ہیں ،اور وہ روایات جو چند جلدی کتابوں میں موجود ہیں ،ان سب کا میں نے حساب کیا تو پتہ چلا کہ ۱۲۰ سے زیادہ کتابیں حضرت کے بارے میں لکھی گئی ہیں ،یہ تو صرف حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے اہل سنت حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی محبت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور آپ کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور دیگر خواتین سے بہتر مانتے ہیں ۔

طبیعی بات ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کی کتابیں حضرت زہراء علیھا سلام سے زیادہ ہیں ۔ ایسی حالت میں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں ان سے بیزار ہوں یا یہ کہ تم اہل بیت علیھم السلام کے دشمن ہو ؟ جب کہ وہ ان فضائل کو نقل کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ اہل بیت علیھم السلام کے فضائل کی روایات جو ہم  نقل کرتے ہیں وہ اہل سنت کی کتابوں سے لی گئی ہیں ۔ پس کیسے ہم ان کی کتابوں میں سے نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ آپ آئمہء اہل بیت علیھم السلام کے دشمن ہو ہمیں آپ سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے ؟ یہ درست نہیں ہے اگر ہمیں کچھ اشخاص کے اعمال اور ان کی رفتار پر اعتراض ہے تو ہم اہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ جو لوگ کھل کر دشمنی کرتے ہیں  ہم ان سے کھل کر اظہار بیزار کرتے ہیں نہ چھپ کر ، یہاں تک کہ اگر وہ ہمارے سامنے ہوں اور دشمنی کا اظہار کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم تم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں قرآن محبت اہل بیت علیھم السلام کے واجب ہونے کی تاکید کرتا ہے [قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (شوري/23)] اور جو ان کو دوست نہیں رکھتا وہ قرآن کا مخالف ہے اور جو قرآن کا مخالف ہے ہم اس سے بیزاری کا اظہار کر سکتے ہیں ۔پس ہمارا رویہ اور مذہب ظاہر پر مبنی ہے اور آشکار ہے ۔لیکن مفاہیم کو مصادیق پر تطبیق دینا ،یہ فریق مقابل کے لیے قابل قبول نہیں ہے اس لیے کہ جس چیز کو آپ ان پر منطبق کرتے ہیں اس کو وہ نہیں کرتے ۔

نام لینا اور تطبیق کرنا ضروریات میں سے نہیں ہے ؛خاص کر تبراء کا تعلق تو اعتقاد اور دل سے ہے ،یہ بدنی اور جوارحی جیسے زبان وغیرہ کا عمل نہیں ہے ،تبراء قلبی عمل ہے ۔

ایسے ہی ہم شیعوں کے کچھ اعمال سے بھی بیزاری اور برائت کا اظہار کرتے ہیں اور اس میں کوئی ممنوعیت اور مشکل نہیں ہے ۔یہ لوگ جاہل ہیں جو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔کتاب کافی میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام غیر مسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے ۔اہل بیت علیھم السلام اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا برتاو کرتے تھے اس کے بارے میں میں نے بہت کچھ لکھا ہے ۔وہی سلوک کرتے تھے جو  رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مخالفین کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔میری سایٹ پر یہ مواد موجود ہے ۔مرحوم کلینی نے ایک روایت کافی میں نقل کی ہے کہ امام علی علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ ایک اہل کتاب ان کے ہمراہ ہو گیا ،یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب حضرت عراق میں تھے اور وہاں سے کوفہ جانا چاہتے تھے ،وہ کتابی حیرہ کی طرف جا رہا تھا وہ ان کے ساتھ ہو گیا آپس میں باتیں کرتے کرتے ایک دو راہے پر پہنچے ۔ امیر المومنین علیہ السلام اس کتابی کافر کے ساتھ کہ جو حیرہ کی طرف جا رہا تھا اس کے ساتھ جانے لگے ۔کتابی نے کہا ؛یا آپ کوفہ نہیں جا رہے ہیں ؟ فرمایا : ہاں ، اس نے کہا ؛کوفے کا راستہ اس طرف ہے یہ حیرہ کا راستہ ہے ۔ حضرت نے فرمایا میں جانتا ہوں لیکن میں تمہارے ساتھ تمہیں رخصت کرنے کے لیے تھوڑی دور جانا چاہتا ہوں ۔اس نے کہا یہ آداب آپ کو کس نے سکھائے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری ایسی تربیت کی ہے ۔کتابی نے کہا اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے کہ میں خدا کی وحدانیت اور اس کے رسول کی حقانیت کی گواہی دوں ۔

چند قدموں نے اس شخص کو اس کے باطل اعتقاد سے حق کی طرف موڑ دیا ۔ لیکن   آپ ان کے بزرگوں پر لعنت بھیجتے ہو اور اس کے بعد کہتے ہو کہ ہمارے مذہب اور مسلک کی طرف آئیے ، تو کون اس کو مانے گا ؟ اصلا ایسا شخص کوئی دیوانہ ہی ہو گا کہ اس کی اور اس کے بزرگوں کی توہین کی جائے اور پھر بھی وہ کہے کہ میں تمہارا مذہب اختیار کروں گا اس لیے کہ آپ نے میرے بزرگوں کی توہین کی ہے ! وہ بزرگ کہ جن پر وہ ایمان اور اعتقاد رکھتا ہے جس طرح آپ آئمہ علیہم السلام پر اعتقاد رکھتے ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخبار مرتبط :

    اخرین اخبار