کد خبر ۶۹۵۹ ۱۱ بازدید انتشار : ۱۷ مهر ۱۳۹۷ ساعت ۱۰:۱۰
سعودیہ پر تنقید،

سینیر صحافی ترکی میں بے دردی سے قتل!

جمال خشوگی کا کالم چھاپنے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رواں ہفتے ان کی کالم کی جگہ ’دی مسنگ وائس‘ یعنی ’گمشدہ آواز‘ کی شہ سرخی کے ساتھ خالی چھوڑ دی ہے۔

ترکی میں حکام نے معروف سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں جب وہ گذشتہ منگل کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے داخل ہوئے تھے لیکن پھر اس کے بعد سے نظر نہیں آئے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں قونصل خانے میں بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا گی، ان کی لاش کےٹکڑے کرکے اسے غائب کردیاگیا۔

جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نویس ہیں اور وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بڑے ناقد رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کو ترک حکام کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق ان کو شبہ ہے کہ جمال خشوگی کو سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔

البتہ انھوں نے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی ثبوت ساتھ میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ جمال خشوگی کو کیسے قتل کیا گیا۔

ادھر سعودی حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان تو نہیں آیا ہے لیکن سعودی سفارت خانے میں موجود ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ترک حکام کے الزام کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بلوم برگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ترک الزامات کی تردید کی اور وہاں کے حکام کو دعوت دی کہ وہ سفارت خانے کا جائزہ لے لیں۔

جمال خشوگی کا کالم چھاپنے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رواں ہفتے ان کی کالم کی جگہ ’دی مسنگ وائس‘ یعنی ’گمشدہ آواز‘ کی شہ سرخی کے ساتھ خالی چھوڑ دی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والے صحافی خشوگی سعودی ولی عہد کی حالیہ اصلاحات اور سنہ 2030 ویژن کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

خشوگی الوطن نامی اخبار کے سابق مدیر بھی رہے، اس کے علاوہ وہ بی بی سی کے سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بنائے جانے والے پروگراموں کے لیے کنٹری بیوٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ سال تنقید نگاروں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو جمال خشوگی امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ وہ اس وقت سے وہیں مقیم ہیں اور خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق حکام اس کیس کو بغور دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ منگل تک جاری تفتیش کو بڑھایا جائے گا۔

ترک ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا ابتدائی شک سعودی سفارت خانے میں عملے پر ہے جہاں ان کے مطابق جمال خشوگی کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا اور قتل کے بعد ان کی لاش کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ اخبار نے بھی ذرائع کے توسط سے بتایا ہے کہ جمال خشوگی کو ایک 15 رکنی سعودی ٹیم نے قتل کیا ہے جو بالخصوص اسی مقصد کے لیے سعودی عرب سے ترکی آئی تھی۔

نامہ نگاروں کے مطابق اگر جمال خشوگی کی موت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات جو پہلے سے ہی سرد مہری کا شکار ہیں، مزید خراب ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب نے مشرق وسطی میں اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر پڑوسی ملک قطر کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں لیکن اس سفارتی جنگ میں ترکی نے قطر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ ترکی نے ایران کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے ہیں جسے سعودی عرب خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف تصور کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔